Posts

Showing posts from July, 2025

کائنات و زندگی کی تخلیق کے عقائد اور نظریات پر تبصرہ

Image
       سب عقائد و نظریات اور تحقیق کو جان کر کیا انسان کو ایک ایسا جواب مل سکتا ہے جس سے انسان کا زہن مطمئن ہو کہ ہاں دنیا اور انسان ایسا ہی تخلیق ہوا ہے؟ یہاں اگر مزہبی عقائد کا ذکر کیا جائے تو تمام مزاہب دنیا اور انسان کی تخلیق اپنے اپنے خدا کا کارنامہ مانتا ہے - اور یہی نقطہ کچھ حد تک انسان کا زہن مطمئن کر لیتا ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو لازم سی بات ہے کہ یہ سب کچھ خدا نے ہی تو پیدا کیا ہے لیکن پھر بھی زہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں   جیسے کہ ہندو مت کہتے ہے کہ انسان کو دیوتاؤں نے اپنے خدمت اور کائنات کو متوازن رکھنے کے لئے پیدا کئے ہیں تو سوال آتا ہے کہ اگر دیوتاؤں کو انسانوں کی خدمت کی ہی ضرورت پڑہ رہا ہو پھر تو دیوتاؤں انسانوں سے بھی کمزور ہیں کیا دیوتاؤں اپنے خدمت یا کائنات کو متوازن رکھنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں نکال سکتے تھیں جنہوں نے اپنے خدمت کے خاطر کمزور انسانوں کو پیدا کیا ہو جبکہ اس دنیا میں انسان ہزاروں مسائل کا سامنا کر رہا ہو - دوسرا سوال دیوتاؤں کو اس کائنات کو چلانے اور بنانے کا کیا ضرورت پڑھ گیا تھا کیا انہوں کے پاس مصروف رہنے کے ل...

دنیا اور زندگی پر سائنسی تحقیق

Image
   دنیا اور زندگی کی تخلیق پر کئی سائنسدانوں نے سائینسی اصولوں کے تحت تحقیق اور نظریات پیش کئے تھیں لیکن وقت وقت کے ساتھ دوسرے سائنسدانوں کے طرف سے اسے ریجیکٹ کئے گئے ہیں - اسلئے وہ تحقیقات ناکام ہوچکے ہیں جبکہ سائنسی تحقیق کے رو سے اب تک کے سب سے زیادہ مقبول اور تسلیم شدہ نظریہ و تحقیق (بگ بینگ تھیوری) ہے   بگ بینگ تھیوری پیش کرنے والے سائنسدانوں میں جارج لیمترے ایک بیلجیئن سائنسدان اور پادری جنہوں نے بگ بینگ تھیوری کی بنیاد 1927 میں رکھی- اور اس کے بعد مختلف سائنسدانوں نے مختلف اوقات میں تجربات مشاہدات کر کے اس تھیوری کو آگے بڑھایا جن میں سے جارجز لیمتر 1927 کے بعد ایڈوین ہبل 1929، رالف الفر اور رابرٹ ہرمن 1948، آرنو پینزیاس اور رابرٹ ولسن 1965، اسٹیفن ہاکنگ 1970، الن گتھ 1981، جیمز پیبلز 2019   بک بینگ فرضی تصویر    بگ بینگ تھیوری کے مطابق کائنات کی ابتدا تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک نہایت چھوٹے گرم اور کثیف نقطے سے ہوئی - یہ نقطہ اچانک ایک زبردست دھماکے بگ بینگ کے زریعے پھیلنا شروع ہوا جس کے نتیجے میں وقت، مکان اور مادہ کا آغاز ہوا - بگ بینگ کے بع...

دنیا اور زندگی کی تخلیق پر مختلف مزاہب کا عقائد، نظریات اور فلسفے

Image
دنیا کا یہ نظام کھربوں سالوں سے یا ایک نامعلوم مدت سے چل رہا ہے - جس طرح یہ نظام ایک نامعلوم مدت سے چل رہا ہے ٹھیک اسی طرح اس نظام میں انسان اور دوسرے جاندار بھی کھربوں سالوں سے یا نامعلوم مدت سے رہ رہے ہیں - اس حوالے سے مختلف مکتب فکر کے لوگوں اور مزہبی عقائدوں کے مختلف رائے اور خیالات ہیں دنیا اور جاندار و انسانی تخلیق پر مختلف مزاہب کا عقائد  اسلام  جیسے کہ اسلامی مزہب کا نقطہ نظر ہے - اور مسلمانوں کا ماننا ہیں کہ قرآن مجید اللہ پاک کا کتاب ہے آور اس میں لکھے گئے باتیں ہر حال میں بلا شک درست ہیں جس کو کسی تحقیق کی ضرورت نہیں - چاہیے وہ باتیں عقل کو مطمئین کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی باتیں ہیں اور جیس نے ان باتوں سے انکار کیا وہ مسلمان نہیں ہے اسلئے بلا شک و عقل اور تحقیق کے اس باتوں کو ماناجاتا ہیں- اسلامی نقطہ نظر میں دنیا کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں کیا اللہ تعالیٰ جو کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہوجا! اور وہ ہوجاتی ہے - زمین اور آسمان پہلے آپس میں جوڑے ہوئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پھاڑ دیا اور دنیا کو تخلیق کیا جبکہ اس دنیا میں تمام ج...

ریاست کی زمہ داریاں

Image
  ایک ریاست کے بہت سارے زمہ داریاں ہوتا ہیں کیونکہ ریاست بنانے کا محض واحد مطلب انسانیت میں عدل انصاف کو قائم کرنا اور عوام کو تمام تر سہولیات فراہم کرنا اور لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا ہوتا ہے - طاقت کے زور پر ریاست قائم کرنا ایک سنگین جرم اور انسانیت کے خلاف اقدام ہے - ہمیشہ ریاست کے شروعات کےلئے جغرافیائی سرحدوں کو منتخب کرنے کے بعد ان سرحدات کے اندار رہنے والے انسانوں کو سہولیات فراہم کرنا ان انسانوں کو ایک انصاف اور انسانیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین کے تحت لانا ہوتا ہے اسلئے کہ اس خطے کے لوگ اپنے ساٹھ سے سو سالہ زندگی خوشحال اور پر سکون گزاریں  دنیا کے تخلیق کے بعد انسانوں کے آپس میں انصاف کو قائم کرنا اور انسانی حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے سب سے پہلا اور بڑا ضرورت ایک ریاست کا ہوتا ہے - اسلئے دنیا میں ریاستی نظام کا ہونا بہت ہی ضروری ہے جبکہ ریاستی نظام اور قوانین کے زریعے زندگی کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے - ریاست کے اہم زمہ داریوں اور فرائض میں سے سب سے پہلے آئین و قوانین ہے ایک ریاست کے لئے سب سے پہلے آئین کو بنانا چاہیے تاکہ ریاست کا نظام اس آئین کے تحت چلایا ج...

ریاست بننے کے بعد ریاست کے چند اہم ترین اصول

Image
ریاست کے پورے نظام کا اختیار اس ایک حکمران کے پاس ہونا چاہیے - جس حکمران کو منتخب کیا گیا ہو - پھر یہ اس حکمران کے زمہ داریاں ہیں کہ وہ اس قانون و آئین کو لاگو کریں یا بوقت ضرورت ایسے قوانین بنائیں جو انسانیت پسند ہو جس سے انسانوں و جاندار کو خیر پہنچتا ہو - اور لفظ ریاست کے مطلب کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں کئی محکمے اور ادارے بنائیں جن کا محض مطلب ریاست کے شہریوں کو تحفظ اور سہولیات فراہم کرنا ہو جبکہ بنیادی مسائل کے طرف سختی سے زور دیا جائے جبکہ ریاست کے اس زمداری کو بخوبی نبھایا جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کے زندگی کو مکمل طور پر آسان اور خوشحال بنانے کے لئے سختی اور لگن کے ساتھ کام کریں - وہ تمام اداروں و محکموں کے لئے مطلقہ ادارے کے اہل شخص جبکہ حکمرانی کے صفات پر اترنے والا شخصیات اور تعلیم یافتہ شخصیات کو وزیر رکھ لئے - اور تمام محکموں کے نوکر بشمول وزیر ملک کے حکمران کو جواب دہ ہوں - پورے ملک کے نظام کو کسی ایک حکمران کے ماتحت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ریاست میں کچھ غلط ہو رہا ہو تو شہری ایک حکمران کو قصوروار ٹھہرا کر اس سے پوچھا جاسکتا ہے جبکہ اگر یہ نظام ایک حکمران کے بج...

ریاست کا حکمران کیسے ہونا چاہیے؟

Image
  ریاست بننے کے بعد ریاست کا حکمران ایک جمہوری طریقے سے لوگوں کے اکثریت رائے سے بٹھانا چاہیے - جبکہ ایسا شخص حکمران بننے کا اہل ہے جس میں ریاست چلانے کا صلاحیت ہو جیسے ان میں انسانیت پسندی، عدل و انصاف،، خدمت کا جزبہ، نرم لہجہ، دوستانہ رویہ، قائدانہ صلاحیت، نرم دلی، احساس، سرگرم، سماجی شخص، آزاد مفکر،اخلاق، سمجھدار، اہل علم جیسے صفات موجود ہوں   کسی شخص کو ان کے زاتی مزہب و عقائد کے وجہ سے حکمران بننے سے محروم رکھنا انسانیت کے خلاف فعل ہے جبکہ ایسا شخص حکمران بننے کےلئے اہل نہیں ہے جس کو اپنے مزہب و عقائد انسانیت سے زیادہ عزیز ہو کیونکہ ایسا شخص حکمران بننے کے بعد اپنے ہم عقائد کے طرف زیادہ توجہ دے گا جبکہ دوسرے مزہبوں و عقائد کے لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھے گا - اسلئے حکمران چاہیے جس مزہب و عقائد کے ماننے والا ہو لیکن اس کے عقائد اس کے زات تک محدود ہوگا جبکہ ریاست کےلئے وہ صرف محض ایک انسان ہوگا - جو کہ انسانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پورے نظام کو چلانے والا ہوگا- جبکہ ایسا قوم پرست بھی حکمران بننے کا اہل نہیں ہے جو کہ اپنے قوم کو عالی سمجھے اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھے ...

رياست کے چند اصول جو اہمیت کے حامل ہیں

Image
  ریاست بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت پسند عدل و انصاف نظام کے تحت ان وطنوں و علاقوں کے لوگوں سے جمہوری طریقے سے رائے لیا جائے جبکہ ان علاقے کے لوگوں کو ریاستی نظام قائم کرنے کے لئے مکمل اختیار ہو- اگر اس علاقے و وطن میں طاقتور شر پسندوں کے اکثریت ہو جو کہ اس جبر کو جاری رکھنے کے لئے انسانیت پسند نظام کا عامی نہ ہو تو دوسرے ریاستوں و علاقوں کے انسانیت پسند قوتوں و لوگوں کا حق بنتا ہیں کہ ان علاقوں کے انسانیت پسندوں کے ساتھ مل کر شرپسندوں کے حق میں بغاوت کا اعلان کریں  اور انسانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آزادی کے تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے جدوجہد کریں - جبکہ کسی طاقتور قوتوں کا کسی خطے پر اپنے طاقت کے زور پر حملہ کرنا یا کسی علاقے کے وسائل کو ہڑپ کرنا جبکہ ان علاقوں کو اپنے ریاست میں طاقت کے زور پر شامل کرنا اور لوگوں کو اپنا ماتخت بنانا یا ان لوگوں کو زبردستی اپنے ریاست کے ماتحت لانا ایک سنگین جرم اور انسانیت کے خلاف اقدام ہے دنیا کے تمام انسان برابر ہیں اور تمام انسانوں کو اپنے زندگی جینے کا حق ہیں وہاں لوگوں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے مرضی سے کسی ریاست می...

وطن اور ریاست میں فرق

Image
وطن اور ریاست میں فرق یہ ہے کہ انسان جس جگہ میں پیدا ہوتا ہے جہاں ان کے بچپن گزرتا ہے جہاں کے مٹی میں وہ بچپن میں کھیلتا ہے جس جگہ سے انسان کا محبت فطرتاً ہوتا ہے وہ وطن ہے- وطن کسی ریاستی قوانین و اصولوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکی وطن میں مکمل طور پر آزادی ہوتی ہے - جبکہ اس آزادی کا بعض طاقتور اور بگڑے ہوئے لوگ غلط فائدہ اٹھا کر دنیا اور انسانیت میں فساد پھیلاتا ہیں - انصاف کا نظام نہیں ہوتا طاقتور جو کہے طاقت کے بل وہ کرتا ہے کسی کو انصاف نہیں ملتا کسی کی مال و عزت محفوظ نہیں ہوتا جبکہ اسی چیز کو کنٹرول کرنے کے لئے انسانیت کو انصاف اور سہولیات فراہم کرنے کے لئے وطن کے اوپر ریاستی نظام (قوانین اصول) قائم کیا جاتا ہیں جس کے تحت تمام انسان ایک جیسے زندگی گزار سکتا ہیں  جبکہ ریاست اصول، قوانین اور سہولیات دینے کا نام ہے جو کہ انسانوں کو زندگی گزارنے کے لئے اصول اور قوانین فراہم کرتے ہے تاکہ لوگ اس اصول کے تحت زندگی گزاریں اور سہولیات سے ان کے زندگی آسان ہو دنیا کے تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو مختلف ریاستیں مختلف مقاصد کے تحت بنے ہیں - جیسے کہ طاقت کے زور پر اقتدار اور بادشاہت ک...

ریاست کا تاریخی پس منظر اور دنیا کا پہلا ریاست

Image
  دنیا کا سب سے پہلے ریاست اور بادشاہت کے بارے میں مختلف مزاہب کا مختلف عقائد ہیں جیسے اسلام میں پوری زمین کو پہلا ریاست مانا جاتا ہے اور اس پر حضرت آدم علیہ السلام کو پہلا خلیفہ سمجھا جاتا ہے جبکہ ہندومت میں سویمبھومنو کو پہلا بادشاہ سمجھا جاتا ہے لیکن سائنسی تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً 8000 قبل مسیح زراعت شروع ہوئی- جیسے زرعی انقلاب کہا جاتا ہے اور اس دن سے انسانوں نے شکار اور خوراک جمع کرنے سے زراعت اور گاؤں کی بنیاد رکھنے کے طرف قدم بڑھایا - تاریخی اعتبار سے4500 قبل مسیح میں میسویوٹیمیا (موجودہ عراق) ایک مکمل تہزیب کے طور پر وجود میں آیا - جبکہ سمیرین تہذیب کے ایک حکمران "ایتانا" تقریباً 3500 قبل مسیح میں میسوٹیمیا(عراق) کے شہر کش کا بادشاہ تھا - جبکہ قدیم مصری ریاست کا شروعات بھی 3100 قبل مسیح میں ہوا پہلا فرعون یا بادشاہ مینس/نارمر نے مصر کو متحد کیا - اوس کے بعد مختلف فرعون مصر کے ریاست پر مختلف دوروں میں گزرے جیسے فرعون رمسیس دوم (1279-1213) قبل مسیح، فرعون توت عنخ امون جبکہ دوسرے قدیم تہزیب انڈس ویلی/وادی سندھ تہزیب (موجودہ پاکستان /انڈیا) 3300 ق...

٣ - وسیمیات

Image
 تنہائی ایک ازیت ناک احساس ہے جو کہ آپ کو ڈیفریشن میں لے جاسکتا ہے جبکہ آپ کو ایک زہنی مریض بنا دیتا ہے  ہوسکتا ہے جوانی کی تنہائی آپ کو اس قدر ازیت دے لیکن جوانی میں برداشت کیا جاسکتا ہے جبکہ آپ کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اس سے- چہروں کو پہچان لو گے اس سے سیکھ کر آپ آپنے بڑھاپے کے اس ازیت  کے لئے حل نکال سکتے ہیں یا آپ اس قدر عادی ہوجاؤ گے تنہائی کے کہ وہ ازیت آپ کو ازیت نہیں لگے گا بلکہ آپ کو ایک سکون دے گا جبکہ لوگوں کے ہجوم سے کتراتے ہوگے پھر وسیم خان یوسفزئی ٢٧ اگست ٢٠٢٤

٢ - وسیمیات

Image
 دنیا میں کامیابی کا کوئی حدنہیں ہوتا جب اپ خوش اور پرسکون ہوتے ہیں جبکہ اپنے ضروریات اور کچھ خواہشات کو پورا کرنے کے صلاحیت رکھتے ہیں وہی کامیابی ہے   وسیم خان یوسفزئی  🌸•••🌸 

١- وسیمیات

Image
    وقت کے ساتھ حالات اور لوگ بدل جاتے ہیں - لیکن جو ہر حال میں اپ کے ساتھ رہ جاتے ہیں وہی ہیرے ہیں  وسیم خان یوسفزئی 🌸•••🌸 

بابڑہ جہاں چھ سو بے گناہ پختونوں کو بے دردی سے پر آمن احتجاج میں قتل کر دیا گیا تھا

Image
  یہ 12 اگست 1948 کی بات ہے جب پاکستان بننے کے ایک سال ہی پورا نہیں ہوا تھا - پاکستان بننے سے پہلے پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ال انڈیا کانگریس سے خان عبدالجبار خان (ڈاکٹر خان) تھا جو کہ جمہوری طریقے سے وزیر اعلیٰ بنا تھا - جبکہ پاکستان بننے کے اٹھ یا نو دن بعد قائد اعظم نے پختونخوا کے اسمبلی کو تحلیل کیا تھا - اور اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کا سلسلہ قائداعظم نے شروع کیا تھا - جبکہ 23 اگست 1947 کو قائد اعظم نے عبدالقیوم خان کشمیری کو پختونخوا کا وزیر اعلیٰ نامزد کیا تھا - عبدالقیوم کشمیری 1942 میں آل انڈیا کانگریس کا ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تھا - اور اس وقت جب عبدالقیوم کانگریس کا رکن تھا اس نے ایک کتاب لکھا تھا جس میں باچا خان کے تعریفیں اور جناح کے مخالفت میں بہت کچھ لکھا تھا - لیکن عبدالقیوم کشمیری بعد میں مفادات کے خاطر مسلم لیگ میں شریک ہوئے تھے جبکہ قائداعظم نے عبدالقیوم کشمیری کو مسلم لیگ پختونخوا کا اہم رکنیت دیا تھا - جبکہ22 اگست 1947 کو اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد 23 اگست 1947 کو عبدالقیوم کشمیری کو پختونخوا کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا تھا - مسلم لیگ میں آنے او...

تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر

Image
  لفظ دیر پر سوات اور باجوڑ کے ناموں کے طرح مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہیں - لیکن تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ دیر کا نام بہت پرانا ہے - بےحد قدیم ہے لیکن اختلاف اس لئے ہے کہ یہاں جو تہذیبیں پروان چڑھیں ان کی زبانیں الگ الگ تھیں اس نسبت سے ہر تہذیب کے ساتھ دیر کا نام اس تہذیب کی زبان کی مناسبت سے مختلف رہا - ایک اور وجہ یہ تھی کہ یہاں ماضی میں مختلف اقوام گزرے ہیں ان اقوام کے مورخین نے دیر کو اپنے قومیت اور دیر کے جغرافیائی خدو خال سے یاد کیا - جیسے سکندر اعظم کے ساتھ یونانی مورخین دیر زیریں میں آئے اور انہوں نے اپنے تحریروں میں دیر زیریں کو "گورائے " کے نام سے یاد کیا - بابر کے ساتھ آئے ہوئے مغل مورخین نے اپنے تحریروں میں دیر کو باجوڑ آور گلگت سمیت "یاغستان" سے یاد کیا - جبکہ سولہویں صدی عیسوی میں دیر "بلورستان" کے نام سے مشہور تھا  جب یونانیوں نے 327 قبل مسیح میں مساگا پر حملہ کیا تو اس وقت مساگا کا دارالحکومت دیر کے تالاش نامی علاقہ تھا - جبک مساگا ریاست دیر سے لیکر سوات بونیر اور دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی اسلئے خیال کیاجاتا ہے کہ دیر کا اصل اور سب...

وطن ریاست آزادی اور پاکستان

Image
  اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وطن سے محبت انسان کی فطری عمل ہے جو کہ ہر کسی کو اپنا وطن عزیز سے ہوتا ہے وطن سے مراد وہ زمین و مٹی ہے جہاں پر انسان پیدا ہوتا ہے جہاں پر رہتا ہے جہاں پر وہ دنیا میں اتا ہے-چاہیے ریاست ہو یا نہ ہو وطن ضرور ہوگا - وطن کسی جھنڈے حکومت بادشاہت حکمرانی راج قوانین کی محتاج نہیں ہوتا- وطن زمین کے کسی بھی حصے کو کہا جاسکتا ہے جہاں پر انسان آباد ہوں - جبکہ ریاست راج حکمرانی بادشاہت قوانین اور ایک نظام کانام ہے جو کہ ریاست کا بنیادی مقصد انسانوں کے فلاح کےلئے کام کرنا انسانوں کے آپس میں انصاف قائم کرناعوام کوروزگار دینا سہولیات دینا انسانوں کے لئے قوانین بنانا تاکہ کوئی ظلم کا شکار نہ ہوجیسے وغیرہ وغیرہ کے لئے ریاست کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے- دنیا کی تاریخ میں ریاستیں زبردستی طاقت سے بھی بنائیں گئے ہیں مفادات بادشاہت اور راج کرنے کے غرض سےجبکہ ایک ریاستی نظام ظلم وجبر سے تنگ لوگوں نے خود کو آزاد کرنےکےغرض سے بھی بنائیں ہیں - اسلئے ریاست سے بغاوت کا ہر گز وطن سے غداری مراد نہیں ہوسکتا - کیونکہ وطن ایک جگہ پر موجود ہوتا ہے جبکہ ریاستیں بدلتی رہتی ہیں- جیسے کے...