ریاست بننے کے بعد ریاست کے چند اہم ترین اصول



ریاست کے پورے نظام کا اختیار اس ایک حکمران کے پاس ہونا چاہیے - جس حکمران کو منتخب کیا گیا ہو - پھر یہ اس حکمران کے زمہ داریاں ہیں کہ وہ اس قانون و آئین کو لاگو کریں یا بوقت ضرورت ایسے قوانین بنائیں جو انسانیت پسند ہو جس سے انسانوں و جاندار کو خیر پہنچتا ہو - اور لفظ ریاست کے مطلب کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں کئی محکمے اور ادارے بنائیں جن کا محض مطلب ریاست کے شہریوں کو تحفظ اور سہولیات فراہم کرنا ہو جبکہ بنیادی مسائل کے طرف سختی سے زور دیا جائے جبکہ ریاست کے اس زمداری کو بخوبی نبھایا جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کے زندگی کو مکمل طور پر آسان اور خوشحال بنانے کے لئے سختی اور لگن کے ساتھ کام کریں - وہ تمام اداروں و محکموں کے لئے مطلقہ ادارے کے اہل شخص جبکہ حکمرانی کے صفات پر اترنے والا شخصیات اور تعلیم یافتہ شخصیات کو وزیر رکھ لئے - اور تمام محکموں کے نوکر بشمول وزیر ملک کے حکمران کو جواب دہ ہوں - پورے ملک کے نظام کو کسی ایک حکمران کے ماتحت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ریاست میں کچھ غلط ہو رہا ہو تو شہری ایک حکمران کو قصوروار ٹھہرا کر اس سے پوچھا جاسکتا ہے جبکہ اگر یہ نظام ایک حکمران کے بجائے کئی لوگوں کے ماتحت ہوتا تو پھر ایسا نظام چلنے کے بجائے اختلافات کا ڈھیر بن جاتا ہیں - اسلئے پورے ریاست کا ایک حکمران جبکہ پورے ملک کے تمام ادارے حکمران کو جواب دہ ہو اور حکمران شہریوں کو جواب دہ ہوتا ہے - ملک میں غلط ہو رہا ہو یا ٹھیک دونوں صورتوں میں ریاست کے عوام کریڈٹ ریاست کے حکمران کو دے سکتا ہے - اگر ایک کے بجائے کئی لوگوں یا محکموں کو اختیارات دیا جائے - تو پھر غلط ہونے کے صورت میں حکمران ایک کو قصور وار ٹھہراے گا خود کو بچانے کیلئے جبکہ دوسرا صاحب اختیار حکمران کو قصوروار ٹھہرا کر خود کو بچانے کے کوشش کریں گا- جس طرح آج کے صدی میں مختلف ممالک میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکمران عدالت کو قصوروار ٹھراتا ہے جبکہ عدالتیں حکمرانوں کو قصوروار ٹھراتا ہیں خود کو بچانے کے لئے - اسلئے پورے ریاست کا اختیار ایک حکمران کے پاس ہونا چاہیے اور اس ایک حکمران کا اختیار عدلیہ فوج، اور دوسرے تمام اداروں پر ہو جبکہ مطلقہ اداروں کے سربراہان اور وزیروں سے پوچھ تاج حکمران خود کریں یا تمام اداروں اور ریاستی نظام کا خود دیکھ بال کریں 


وسیم خان یوسفزئی 




Comments

Popular posts from this blog

محمود خان بابا کی سوانح حیات

تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر

وطن ریاست آزادی اور پاکستان