Posts

شاہ آمین خان کی سوانح حیات

Image
شاہ آمین خان (رحمتہ اللہ علیہ) کے فائل فوٹو   نوٹ: شاہ آمین خان (رح) اور ان کی اہلیہ کی یہ سوانح عمری ایک تاریخی دستاویز کے طور پر محفوظ کی جا رہی ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے آباؤ اجداد کی زندگیوں سے واقف ہوں، ان کے حالاتِ زندگی کو سمجھ سکیں اور ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ شاہ آمین خان (رح) 1974ء میں گاؤں ڈوگرام، تحصیل واڑی، ضلع دیر بالا میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق آپ کی تاریخِ پیدائش یکم جنوری 1974ء درج ہے۔ اگرچہ آپ کی پیدائش ڈوگرام میں ہوئی، تاہم آپ کا بچپن بھی ابتدائی طور پر ڈوگرام ہی میں گزرا۔ بعد ازاں آپ کا خاندان ڈوگرام کے قریب واقع ایک دوسرے گاؤں ملّاگجر منتقل ہوگیا، جہاں آپ نے اپنی جوانی اور عمرِ بلوغت کا بیشتر حصہ گزارا۔ شاہ آمین خان رخمتہ اللہ علیہ کے جوانی کا ایک یادگار تصویر   واڑی پائندہ خیل یوسفزئی کا مسکن ہے، اسی وجہ سے خاندان کی موروثی زمینیں واڑی کے مختلف دیہات، مثلاً منزئی، کس، کاکڈ، ملّا گوجر اور ڈوگرام میں موجود ہیں۔ خاندان کا ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں منتقل ہونا بنیادی طور پر آبائی اور موروثی زمینوں سے وابستہ تھا۔ چنانچہ یہ خان...

محمود خان بابا کی سوانح حیات

Image
محمود خان بابا رحمتہ اللہ علیہ 1937 - 2002  نوٹ : یہ تحریر محمودخان بابا (رح) اور ان کی اہلیہ کی سوانح حیات محض ایک تاریخی دستاویز ہے - جو ان کے آنے والے نسلوں تک ان کے یاد کو زندہ رکھنے کےلئے ایک کوشش کئی گئ ہے - تاکہ آنے والے نسل اپنے آباؤ اجداد کے زندگی سے واقف ہوں اور ان کے زندگیوں سے آنے والے نسلوں کو سبق ملے  محمود خان بابا (رح) کی پیدائش 1937ء میں ہوئی۔ پاکستانی قومی ریکارڈ میں آپ کی تاریخِ پیدائش 1 جنوری 1937ء کے طور پر درج ہے۔ آپ زریف خان بابا کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش ایک ایسے تاریخی دور میں ہوئی جب موجودہ دیر کا علاقہ ایک الگ ریاستی نظام کے تحت قائم ریاستِ دیر کا حصہ تھا۔ یہ ریاست 1969ء میں پاکستان کے انتظامی نظام میں ضم ہوئی اور یوں ریاستِ دیر کا تاریخی دور اختتام پذیر ہوا۔ چنانچہ محمود خان بابا کی پیدائش ریاستِ دیر کے دور میں ہوئی، جبکہ 1969ء کے بعد آپ ریاستِ پاکستان کے شہری بنے محمودخان بابا (رح) کے جوانی کا ایک یادگار تصویر   آپ ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب دیر کے بیشتر علاقوں میں جدید تعلیم، صحت، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولیات نہایت محدود تھیں۔ ا...

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں طلباء اور پاک آرمی کے حاضر سروس آفیسر کے فائر کرنے والے واقعے کے بعد ایک ریٹائرڈ میجر لکھتے ہے

Image
   سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں طلباء اور پاک آرمی کے حاضر سروس آفیسر کے   فائر کرنے والے واقعے     کے بعد ایک ریٹائرڈ میجر لکھتے ہے    " جہاں تک مجھے اس ادارے کے اندرونی اصول کا پتہ ہے اس آفیسر کو قید نہیں کیا جائے گا بلکہ ایک لیٹر آئے گا - Thanks for the Service اور اسے ریٹائرڈ کیا جائے - اس آفیسر کو اس غلطی کےلئے نہیں کہ اس نے فائر کیا یا طلباء کو مارا ڈرایا دھمکایا بلکہ اس آفیسر کو اس غلطی کےلئے ہٹایا جائے گا کہ آپ اکیلے کیوں گئے تھے؟ آفیسر تو گھر جائے گا لیکن ساتھ ساتھ ملوث طلباء کے مستقبل بھی تباہ ہوگا " ایک ریٹائرڈ میجر کے اس گفتگو سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ ادارہ عام شہریوں کو کچھ بھی نہیں سمجھتا - بلکہ اپنے ادارے کے وقار کو عام شہریوں کے تحفظ اور فرائض سے کئی اوپر رکھتا ہے جبکہ ادارے کے حاضر سروس آفیسرز کے غلطیوں کو defined کرنا اور ان کا تحفظ کرنا بھی اپنا اولين فرض سمجھتا ہے - اس واقعے کے اوپر اگر بات کیا جائے تو طلباء کے اپنے حقوق کےلئے پروٹسٹ کرنا یا اپنے پروفیسرز کے حق کےلئے کھڑا ہونا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایشیائی ممالک میں یہ روا...

کائنات و زندگی کی تخلیق کے عقائد اور نظریات پر تبصرہ

Image
       سب عقائد و نظریات اور تحقیق کو جان کر کیا انسان کو ایک ایسا جواب مل سکتا ہے جس سے انسان کا زہن مطمئن ہو کہ ہاں دنیا اور انسان ایسا ہی تخلیق ہوا ہے؟ یہاں اگر مزہبی عقائد کا ذکر کیا جائے تو تمام مزاہب دنیا اور انسان کی تخلیق اپنے اپنے خدا کا کارنامہ مانتا ہے - اور یہی نقطہ کچھ حد تک انسان کا زہن مطمئن کر لیتا ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو لازم سی بات ہے کہ یہ سب کچھ خدا نے ہی تو پیدا کیا ہے لیکن پھر بھی زہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں   جیسے کہ ہندو مت کہتے ہے کہ انسان کو دیوتاؤں نے اپنے خدمت اور کائنات کو متوازن رکھنے کے لئے پیدا کئے ہیں تو سوال آتا ہے کہ اگر دیوتاؤں کو انسانوں کی خدمت کی ہی ضرورت پڑہ رہا ہو پھر تو دیوتاؤں انسانوں سے بھی کمزور ہیں کیا دیوتاؤں اپنے خدمت یا کائنات کو متوازن رکھنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں نکال سکتے تھیں جنہوں نے اپنے خدمت کے خاطر کمزور انسانوں کو پیدا کیا ہو جبکہ اس دنیا میں انسان ہزاروں مسائل کا سامنا کر رہا ہو - دوسرا سوال دیوتاؤں کو اس کائنات کو چلانے اور بنانے کا کیا ضرورت پڑھ گیا تھا کیا انہوں کے پاس مصروف رہنے کے ل...

دنیا اور زندگی پر سائنسی تحقیق

Image
   دنیا اور زندگی کی تخلیق پر کئی سائنسدانوں نے سائینسی اصولوں کے تحت تحقیق اور نظریات پیش کئے تھیں لیکن وقت وقت کے ساتھ دوسرے سائنسدانوں کے طرف سے اسے ریجیکٹ کئے گئے ہیں - اسلئے وہ تحقیقات ناکام ہوچکے ہیں جبکہ سائنسی تحقیق کے رو سے اب تک کے سب سے زیادہ مقبول اور تسلیم شدہ نظریہ و تحقیق (بگ بینگ تھیوری) ہے   بگ بینگ تھیوری پیش کرنے والے سائنسدانوں میں جارج لیمترے ایک بیلجیئن سائنسدان اور پادری جنہوں نے بگ بینگ تھیوری کی بنیاد 1927 میں رکھی- اور اس کے بعد مختلف سائنسدانوں نے مختلف اوقات میں تجربات مشاہدات کر کے اس تھیوری کو آگے بڑھایا جن میں سے جارجز لیمتر 1927 کے بعد ایڈوین ہبل 1929، رالف الفر اور رابرٹ ہرمن 1948، آرنو پینزیاس اور رابرٹ ولسن 1965، اسٹیفن ہاکنگ 1970، الن گتھ 1981، جیمز پیبلز 2019   بک بینگ فرضی تصویر    بگ بینگ تھیوری کے مطابق کائنات کی ابتدا تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک نہایت چھوٹے گرم اور کثیف نقطے سے ہوئی - یہ نقطہ اچانک ایک زبردست دھماکے بگ بینگ کے زریعے پھیلنا شروع ہوا جس کے نتیجے میں وقت، مکان اور مادہ کا آغاز ہوا - بگ بینگ کے بع...