کائنات و زندگی کی تخلیق کے عقائد اور نظریات پر تبصرہ
![]() |
سب عقائد و نظریات اور تحقیق کو جان کر کیا انسان کو ایک ایسا جواب مل سکتا ہے جس سے انسان کا زہن مطمئن ہو کہ ہاں دنیا اور انسان ایسا ہی تخلیق ہوا ہے؟ یہاں اگر مزہبی عقائد کا ذکر کیا جائے تو تمام مزاہب دنیا اور انسان کی تخلیق اپنے اپنے خدا کا کارنامہ مانتا ہے - اور یہی نقطہ کچھ حد تک انسان کا زہن مطمئن کر لیتا ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو لازم سی بات ہے کہ یہ سب کچھ خدا نے ہی تو پیدا کیا ہے لیکن پھر بھی زہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں
جیسے کہ ہندو مت کہتے ہے کہ انسان کو دیوتاؤں نے اپنے خدمت اور کائنات کو متوازن رکھنے کے لئے پیدا کئے ہیں تو سوال آتا ہے کہ اگر دیوتاؤں کو انسانوں کی خدمت کی ہی ضرورت پڑہ رہا ہو پھر تو دیوتاؤں انسانوں سے بھی کمزور ہیں کیا دیوتاؤں اپنے خدمت یا کائنات کو متوازن رکھنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں نکال سکتے تھیں جنہوں نے اپنے خدمت کے خاطر کمزور انسانوں کو پیدا کیا ہو جبکہ اس دنیا میں انسان ہزاروں مسائل کا سامنا کر رہا ہو - دوسرا سوال دیوتاؤں کو اس کائنات کو چلانے اور بنانے کا کیا ضرورت پڑھ گیا تھا کیا انہوں کے پاس مصروف رہنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا سوائے انسان کو اتنے بڑے مصیبت میں ڈالنے کا؟ کیونکہ دنیا ہر انسان کے لئے محض ایک مصیبت ہے - چاہیے جو خوش ہو یا افسردہ - جو خوش ہے وہ اس دنیا سے جانا نہیں چاہتے پھر بھی اس کو موت آتی ہے، جو آفسردہ ہیں وہ زندگی کو جلدی ختم کرنےکے فکر میں ہیں-اور پھر یہی سوال تمام ان مزہبوں پر اٹھایا جاتا ہیں جنہوں کے نزدیک دنیا اور انسان کی تخلیق خدا نے کیا ہیں - جیسے اسلام، مسیحیت،یہودیت،سیکھ مت، بہائی مت ان مزہبوں کے نزدیک دنیا اور پوری کائنات خدا نے تخلیق کیا ہے اور انسان کو خدا نے اپنے عبادت اور خوشنودی کے لئے پیدا کیا ہیں
جیسے کے اسلام، مسیحیت اور یہودیت میں ہے کہ اللہ نے اس پورے کائنات کو چھ دونوں میں پیدا کیا ہے جو کہ یہ نقطہ ہر انسان کو عقلی طور پر مطمئین کرسکتا ہیں چاہیے کوئی ان عقائد کو ماننے والا ہو یا نہ ہو! کیونکہ جو اللہ موجود ہے تو لازم اس دنیا کو تخلیق کرنے والا بھی وہی ہوگا - پھر آدم علیہ السلام کو جنت میں مٹی سے پیدا کر کے اس میں اللہ نے روخ پھونکی بیشک جب خدا موجود ہے تو عقلی طور پر ہر انسان اس کو تسلیم کرسکتا ہیں چاہیے کوئی جس مزہب یا جس نظرے کے مالک ہو - لیکن سوال اس کے بعد یہ زہن میں آتا ہے کہ کیوں؟ کائنات اور انسان کو کیوں پیدا کیا گیا؟ تو جواب ملتا ہے کہ کائنات کو انسان کے لئے آزمائش و امتحان کے لئے بنایا گیا ہیں -جبکہ انسان کو اللہ نے اپنے عبادت اور خوشنودی کے لئے پیدا کیا ہیں - پھر سوال آتا ہے اللہ کو انسان کی عبادت کی کیا ضرورت؟ وہ تو اتنا بڑا بادشاہ ہے اتنے بڑے جنت اور خزانوں کا مالک ہیں جو چاہے وہ ہو جاتا ہیں بلا انسان کے عبادت کرنے یا نہ کرنے سے ان کے شان میں کیا فرق آسکتا ہے؟ عبادت کے لئے فرشتے بھی تو موجود تھیں جو پوری دن رات عبادت میں مشغول ہوتی ہیں پھر انسان پر اتنا بڑا آزمائش و آمتحان کیوں؟ جنت جب بنایا گیا انسان کو وہاں کیوں نہیں رکھا گیا؟ حوا اور آدم علیہ السلام کے ایک خطا کے لئے ان کے پورے اولاد کو اتنے بڑے آزمائش میں ڈالنا؟ والدین کے خطا کا سزا اولاد کو دینا ؟برائیوں کو قابو کرنے کے باوجود قابو کیوں نہیں کیا جاتا؟ لکھے ہوئے تقدیر اور اعمال پر باخبر ہونے کے بعد بھی اسے سزا کیوں ملے گا...ان سمیت کئی سوالات جنم لیتے ہیں جو کہ ان کے کوئی خاص زہن و عقل کو مطمئین کرنے والا جواب مزہب میں موجود ہی نہیں ہے آب تک جبکہ تمام مزاہب پر سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہیں کہ انسان اور دنیا کے مقصد کیا ہیں کس مقصد کے تحت بنا ہیں ان مزہبوں کے خداؤں کو کیا ضرورت پڑھ گیا تھا ایسے کئ سوالات جنم لیتے ہیں - خیر یہاں ہمارا مقصد کسی عقائد کو ٹارگٹ کرنا یا کسی عقائد پر سوالات اٹھانا یا انہیں عقاید کے ماننے والوں کو تشویش میں مبتلا کرنا ہر گز نہیں! بلکہ یہاں محض ہمارا مقصد کائنات اور انسانی زندگی کی شروعات پر مختلف عقائد نظریات اور تحقیق پیش کر کے اس پر بعث کر کے کائنات اور انسانی زندگی کی شروعات کا اصلیت تک پہنچنا اور معلومات فراہم کرنا ہے
اب اگر سائنسی تحقیق پر سوچا جائے تو کیا سائنسی تحقیق زہن کو اس کےلئے مطمئین کرسکتا ہے کہ خود بخود ایک دھماکہ ہوجاتا ہے جس سے خود بخود کائنات بن جاتی ہے جس کے نتیجے میں وقت، فضا کئ سیارے سمت زمین سورج بنتا ہے جبکہ سائنس کے پاس اب تک اس کا جواب موجود نہیں ہے کہ دھماکہ کس چیز و نقطے سے ہوا کسی چیز کا خود بخود سے ہونا بھی عقل سے باہر ہے - جبکہ زندگی کا شروعات ايک خلیے سے ہونا، بندروں اور انسانوں کے تعلق مشترکہ آبا سے ہونا بھی زہن کےلئے تسلیم کرنا بھی مشکل اور حیران کن ہے- لیکن سائنس کے پاس مختلف تجربات اور مشاہدات کے زریعے اسکی ٹھوس ثبوت موجود ہیں
جیسے کہ کائنات و زندگی پر اتنے سارے مزہبی عقائد و سائنسی تحقیق موجود ہیں اور سب کے سب ایک دوسرے سے مختلف اور منفرد ہیں جبکہ ان سب پر ایسے ٹھوس سوالات اٹھایا جاسکتا ہیں جن کے جوابات کسی عاقل انسان کے زہن مطمئن نہیں کرسکتا-اگر ہم کہے کہ ان سوالات کے جوابات اب تک ہیں ہی نہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا
کائنات و زندگی کے تخلیق کے موضوع پر مزہبی عقائد اور سائنسی تحقیق پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میں یہ رائے اور نظریہ قائم کرسکتا ہو - " کہ کائنات و زندگی کی تخلیق کا ہمیں کوئی علم نہیں کہ کب کیسے اور کیوں پیدا ہوا ہیں شاید یہ ایک راض ہے جو کہ ان کا جواب نہ اب تک ملا ہے اور نہ کبھی ملے گا - لیکن قدرت کے اس نظام کو دیکھ کر ہمیں یہ اندازہ ضرور ہوتا ہیں کہ کوئی تو ہے جس نے اس نظام کو بنایا ہے - جسطرح یہ نظام چل رہا ہے تو یہ خود بخود نہیں ہوسکتا جبکہ کوئی ضرور ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہوں اور وہ"خدا" ہے - لیکن اس کے بعد بھی ہمیں ان سوالوں کا کوئی علم نہیں کہ اگر کائنات و زندگی کو بنانے اور چلانے والا خدا موجود ہے تو خدا نے کائنات و زندگی کو کس مقصد کے لئے تخلیق کیا اس کا ہمارے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں جبکہ یہ خدا کا ایک راض ہوسکتا ہے -جبکہ اس کے علاوہ بھی ہمیں ان سوالات کا جواب تو دور کی بات اندازہ بھی نہیں ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو خدا کو کس نے بنایا یا وہ خدا اکیلا کیوں ہے؟ یہ وہی سوالات ہیں جو کہ گہرے سوچ اور مطالعے کے ساتھ زہن میں جنم لیتا ہیں پھر ان کے جواب تو کیا اندازہ لگانا بھی ناممکن ہے - جبکہ مزہبوں کے حوالے سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تمام مزاہب محض ایک اصول ہے جس کو زندگی گزارنے کے لئے بنائیں گے ہیں اور بعد میں مزہبوں کے ان اصولوں نے ایسے راہ اپنا لے ہیں جن میں ایسے اصولوں کو بھی شامل کیا گیا ہیں جس کا معاشرتی زندگی کے لئے کوئی اہمیت نہ ہو جبکہ بعض دفعہ ایسے اصول بھی رکھتے ہیں ان مزہبوں میں جن سے انسانیت اور زندگی پر برا اثر پڑتا - جس طرح دنیا کہ ہر چیز کا مثبت اور منفی اثرات ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح مزہبوں کے اصول میں بھی مثبت اور منفی تعلیماتِ پائے جاتے ہیں جبکہ مزہبوں کے ماننے والے ہر حال میں اس تعلیمات کو مانتے ہیں اور اس حوالے سے لوگوں کو خدا سے ڈراتا ہیں
اس موضوع کے اوپر بات کرنے کے دوران مزہبوں اور سائنسی تحقیق پر سوالات اٹھانے کا مقصد ہر گز ان عقائد اور تحقیق کو کمتر ثابت کرنا نہیں تھا بلکہ سائنس کا تحقیق قابل داد ہے جبکہ مزہبوں کے اس موضوع پر عقائد بھی انسان کو زندگی کا مقصد سمجھانے کا بہترین کوشش ہیں - ہمیں زندگی کی اصولوں میں اس بات کو دھرانا تھا - کہ ہمیں اب اس کائنات اور زندگی کی شروعات کے بجائے زندگی کے مسائل اور دکھوں کا حل نکال کر دنیا کی ساٹھ سے سو سالہ زندگی کو خوشحال اور پرسکون گزارہ جائے حالانکې دنیا کی تاریخ میں مختلف ادوار میں مختلف مزہبوں نے جنم لیا ہیں اور ہر مزہب نے خود کو سچا اور حق کا مزہب سمجھا ہے جبکہ زندگی کی شروعات اور ختم ہونے پر عقائد پیش کیا ہیں اور زندگی کے لئے اصول تیار کر کے ایک مقصد کے تحت گزرانے کا کہا گیا ہیں - جس طرح کچھ لوگ مزہبی اصول اور قانون کو اہمیت دیتے ہیں جس پر زندگی گزارنے کے کوشش کرتا ہیں وہاں ایسے بھی بہت لوگ پائے جاتے ہیں جو کہ محض پرانے روایات پر زندگی گزارتے ہیں جبکہ روایات ان کے نزدیک بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جبکہ ان روایات سے ہٹ کر چلنا وہ لوگ دوسروں کو غلط ثابت کرتے ہیں جبکہ میرے نظر میں یہ غلط ہے روایات انسانوں کے بنائے ہوئے اصول ہیں
کئی مزہبوں کے زندگی کے اصول موجود ہونے کے باوجود بھی زندگی کے لئے ایک ایسی اصولوں کی ضرورت پیش ہے جسمیں انسانیت کو عقلی طور پر فوقیت حاصل ہو اور اس اصولوں کا مقصد صرف اور صرف ساٹھ سے سو سالہ زندگی کی خوشی سکون،دکھوں اور مسائل سے نجات ہو-جبکہ موت کے بعد اور پیدائش سے پہلے والے زندگی پر عقائد سب کے زاتی عمل ہیں - چاہیے کوئی جس عقائد اور نظریات کو مانتے ہیں موت کے بعد وہ اس کا اور اس کے رب کا معاملہ ہے اگر کسی رب پر یقین رکھتا ہو
وسیم خان یوسفزئی

Comments
Post a Comment