محمود خان بابا کی سوانح حیات


محمود خان بابا رحمتہ اللہ علیہ
1937 - 2002 




نوٹ : یہ تحریر محمودخان بابا (رح) اور ان کی اہلیہ کی سوانح حیات محض ایک تاریخی دستاویز ہے - جو ان کے آنے والے نسلوں تک ان کے یاد کو زندہ رکھنے کےلئے ایک کوشش کئی گئ ہے - تاکہ آنے والے نسل اپنے آباؤ اجداد کے زندگی سے واقف ہوں اور ان کے زندگیوں سے آنے والے نسلوں کو سبق ملے 


محمود خان بابا (رح) کی پیدائش 1937ء میں ہوئی۔ پاکستانی قومی ریکارڈ میں آپ کی تاریخِ پیدائش 1 جنوری 1937ء کے طور پر درج ہے۔ آپ زریف خان بابا کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش ایک ایسے تاریخی دور میں ہوئی جب موجودہ دیر کا علاقہ ایک الگ ریاستی نظام کے تحت قائم ریاستِ دیر کا حصہ تھا۔ یہ ریاست 1969ء میں پاکستان کے انتظامی نظام میں ضم ہوئی اور یوں ریاستِ دیر کا تاریخی دور اختتام پذیر ہوا۔ چنانچہ محمود خان بابا کی پیدائش ریاستِ دیر کے دور میں ہوئی، جبکہ 1969ء کے بعد آپ ریاستِ پاکستان کے شہری بنے

محمودخان بابا (رح) کے جوانی کا ایک یادگار تصویر 


آپ ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب دیر کے بیشتر علاقوں میں جدید تعلیم، صحت، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولیات نہایت محدود تھیں۔ اس دور میں دیہی زندگی کا بنیادی سہارا زمین، زراعت، مویشی اور محنت مزدوری تھی۔ جو لوگ اپنی زمینوں پر محنت کرتے، فصلیں اگاتے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے، وہی نسبتاً بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوتے تھے۔ محمود خان بابا بھی ایک محنت کش زرعی خاندان میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی سے زمین اور محنت سے ان کا گہرا تعلق قائم ہوگیا۔

خاندانی پس منظر اور شجرہ نسب 

محمود خان بابا (رح) کے والد کا نام زریف خان بابا (رح) ، دادا کا نام ملک خیرےخان (رح) اور پڑدادا کا نام غائبان خان  بابا (رح) تھا۔ آپ کا خاندان اپنے قدیم نسب، آبائی زمینوں، قبائلی روایات اور خاندانی اقدار کی وجہ سے ایک تاریخی پس منظر رکھتا تھا۔


شجرہ نسب 

آپ کا شجرۂ نسب غائبان خان بابا بن شیرزیل خان بن شریف خان بن وہاب خان بن لعلی خان بن متا خان بن کرمو خان بن  خان مبارک خان بن سدو خان بن سردار پائندہ خان بن سردار ملے خان بن خواجہ بن اکوخان بن یوسف خان بن مند بن خشے بن کند بن خرشبون بن سڑبن تک پہنچتا ہے ۔
یہ وہ بزرگ تھے جنہیں خاندانی روایات میں غیرت، شجاعت، بہادری، عزت، مہمان نوازی اور سخاوت جیسی صفات کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان بزرگوں کی روایات اور اقدار نسل در نسل خاندان میں منتقل ہوتی ہیں 
 


والد کی طرف سے آپ کا تعلق پختون افغان قوم و نسل کے معروف یوسفزئی قبیلے سے تھا۔ یوسفزئی کے زیلی شاخ ملیزی، کے زیلی شاخ پائندہ خیل، کے زیلی شاخ مبارک خیل، کے زیلی شاخ کرمو خیل،کے زیلی شاخ لعلی خیل سے آپ کا خاندانی نسلاً تعلق تھا  

خاندانی درخت 


والدہ کی طرف سے آپ کی والدہ بھی پختون افغان خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ آپ کی والدہ شابنیز خان کے بہن تھی - ان کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی ملیزی شاخ، کے زیلی شاخ پائندہ خیل، کے زیلی شاخ مبارک خیل، کے زیلی شاخ کرمو خیل، کے زیلی شاخ احد خان خیل سے تھا، اور ان کا خاندان دیر واڑی کے گاؤں زارئی/سیرئی سے تعلق رکھتا تھا۔

اس طرح آپ کا والدین دونوں طرف سے تعلق ایک وسیع یوسفزئی قبائلی پس منظر سے جڑا ہوا تھا۔ اس خاندانی ماحول نے آپ کے اندر اپنی زمین، خاندان، روایات اور رشتوں سے گہری وابستگی پیدا کی۔

واڑی پائندہ خیل یوسفزئی کا ایک قدیم مسکن سمجھا جاتا ہے۔ اس خاندان کی آبائی اور موروثی زمینیں واڑی کے مختلف علاقوں اور دیہات میں پھیلی ہوئی تھیں، جن میں واڑی منزئی، کس، کاکڈ، ڈوگرام اور ملاگجر شامل تھے۔

آبائی زمینوں اور موروثی جائیداد کی وجہ سے خاندان کو مختلف اوقات میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں منتقل ہونا پڑا۔ خاندانی روایت کے مطابق یہ خاندان پہلے واڑی منزئی میں آباد تھا، بعد ازاں ملاگجر منتقل ہوا، پھر ڈوگرام میں سکونت اختیار کی اور بعد میں ڈوگرام سے دوبارہ ملاگجر منتقل ہوگیا۔

علاقہ واڑی کے نقشہ


یہ نقل مکانی کسی جگہ سے تعلق ختم کرنے کے بجائے آبائی زمینوں اور خاندانی جائیداد کے انتظام سے جڑی ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے اس خاندان کی تاریخ واڑی کے مختلف دیہات اور علاقوں سے وابستہ رہی۔


زریف خان بابا (رح) کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی - بڑے بیٹے شیرین زادہ اور چھوٹے بیٹے محمود خان (رخ) ۔ جبکہ بیٹی ریخمہ بی بی (رخ) کی شادی صندل کے سید خاندان میں ہوئی تھی - جو کہ زوجہ سید احمد تھی والدہ سید قلیمون باچا، سید سپین باچا اور سید.... تھی - محمود خان بابا (رح) نے بچپن ہی سے اپنے والد اور بڑے بھائی کے ساتھ آبائی زمینوں پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

اس دور میں جدید زرعی مشینری اور سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ کھیتی باڑی مکمل طور پر جسمانی محنت کا کام تھی۔ زمین تیار کرنا، فصل بونا، فصل کاٹنا، مویشیوں کی دیکھ بھال اور دیگر زرعی کام روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔

محمود خان بابا (رح) نے اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ اسی محنت میں گزارا۔ زراعت کے ساتھ ساتھ آپ نے مختلف قسم کے مزدوری کے کام بھی کیے۔ بہتر روزگار اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے آپ مختلف شہروں میں گئے، جہاں آپ نے تندور کے کام، مزدوری اور دیگر محنت طلب کاموں کے ذریعے رزق کمایا۔

آپ کے نزدیک کوئی حلال کام چھوٹا نہیں تھا۔ آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ اپنے ہاتھ کی محنت سے حلال روزی کمائی جائے اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کی جائیں۔ آپ نے محنت کو کبھی بوجھ نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنے خاندان کے لیے ایک ذمہ داری اور فرض سمجھ کر نبھایا۔

بعد ازاں محمود خان بابا (رح) کی شادی دیر واڑی، نہاگدرہ کے صندل گاؤں کے ایک معزز سید خاندان میں ہوئی۔ خاندانی روایت کے مطابق آپ کے سسرالی خاندان کا نسب عرب قریش سے منسوب کیا جاتا ہے اور اسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت حضرت محمد ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نسبت رکھنے والا خاندان بیان کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کی اہلیہ کے ہاں پانچ بچے پیدا ہوئے۔ ان میں ایک بیٹی پیدائش کے وقت وفات پاگئی، جبکہ چار بیٹے زندہ رہے: بڑا بیٹا شاہ آمین خان (رح) ، جبکہ دوسرا شاہد خان (رخ) ، شیر محمد خان (رخ) اور مختیار علی خان (رخ) تھے 
 شاہ آمین خان (رخ) کے پیدائش 1974ء اور شاہد خان کےپیدائش 1978ء میں واڑی ڈوگرام میں ہوئی، جبکہ شیر محمد خان  اور مختیار علی خان 1989ء واڑی ملاگجر میں پیدا ہوئے


محمود خان بابا کے بیٹے اور نواسوں کا خاندانی درخت 



اپنے بچوں کی پرورش اور کفالت محمود خان بابا کی زندگی کی بنیادی ترجیحات میں شامل رہی۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنی اولاد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کی اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے اپنی زندگی کی توانائیاں صرف کیں۔

محمود خان بابا کی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے میں گزرا۔ آپ ایک ایسے دور میں خاندان کی کفالت کر رہے تھے جب روزگار کے مواقع محدود، آمدنی کم اور زندگی کے اخراجات پورے کرنا ایک مسلسل جدوجہد تھی۔

آپ نے کبھی حالات کے سامنے ہمت نہیں ہاری۔ کبھی آبائی زمینوں پر محنت کی، کبھی مزدوری کی، کبھی تندور کا کام کیا اور کبھی روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں کا رخ کیا۔ آپ کی پوری زندگی اس بات کی مثال تھی کہ ایک باپ اپنے خاندان کے لیے کتنی قربانیاں دے سکتا ہے۔

محمود خان بابا کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیات میں شرافت، عاجزی، سادگی، نرم مزاجی، انسان دوستی اور امن پسندی شامل تھیں۔

آپ انتہائی شریف النفس انسان تھے۔ آپ کی گفتگو میں نرمی، رویے میں عاجزی اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں احترام نمایاں تھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی انتہائی سادہ انداز میں گزاری۔ آپ کی خواہشات محدود تھیں، لیکن اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ کی محنت غیر معمولی تھی۔

زندگی کی سختیوں نے آپ کے مزاج میں سختی پیدا نہیں کی بلکہ مشکلات کے باوجود آپ کے اندر نرمی، برداشت اور دوسروں کے لیے ہمدردی برقرار رہی۔

آپ کی زندگی کا شاید سب سے منفرد پہلو آپ کی امن پسندی تھی۔ آپ ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے جہاں قبائلی روایات بہت مضبوط تھیں اور پرانے زمانے میں مختلف خاندانوں اور قبائل کے درمیان تنازعات اور دشمنیاں بھی معاشرتی زندگی کا حصہ رہی تھیں۔ آپ کے خاندان میں ماضی کے کئی ایسے بزرگ گزرے جنہیں شجاعت، بہادری اور جنگی صلاحیت کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ یوسفزئی اور بالخصوص پائندہ خیل کے تاریخی پس منظر میں بہادری اور قبائلی مزاحمت کی روایات کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن محمود خان بابا نے اپنی زندگی کے لیے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ۔ آپ نے جنگ کے بجائے امن، دشمنی کے بجائے برداشت، اور تنازع کے بجائے خاموش محنت کو اپنی زندگی کا اصول بنایا۔ آپ نہ قبائلی لڑائیوں کا حصہ بنے اور نہ ہی خاندانی دشمنیوں میں عملی طور پر شامل ہوئے۔ آپ نے اپنی زندگی زمین، محنت، روزگار اور خاندان کی کفالت کے لیے وقف رکھی۔

یہ آپ کی شخصیت کا غیر معمولی پہلو تھا کہ ایک ایسے خاندانی اور قبائلی ماحول میں جہاں بہادری کا اظہار بعض اوقات لڑائی اور دشمنی کے ذریعے بھی کیا جاتا تھا، آپ نے نرمی، عاجزی اور امن کو اپنی طاقت بنایا- آپ کی خاموشی کمزوری نہیں تھی؛ بلکہ یہ آپ کے کردار کی مضبوطی تھی۔

آپ نے اپنی زندگی میں نہ بڑے عہدوں کی تلاش کی، نہ دولت و شہرت کے پیچھے بھاگے اور نہ ہی اپنی حیثیت جتانے کی کوشش کی۔ آپ کی زندگی کا محور محنت، حلال روزی، خاندان اور امن تھا۔

آپ کا طرزِ زندگی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کی عظمت ہمیشہ اس کے مال، منصب یا شہرت سے نہیں ہوتی۔ بعض لوگ خاموشی سے اپنی پوری زندگی محنت کرتے ہیں، اپنے بچوں کو پالتے ہیں، کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے اور معاشرے میں امن کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی عظمت ان کے کردار میں ہوتی ہے۔ آپ بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔

زندگی بھر محنت، سادگی اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کے بعد محمود خان بابا کی زندگی کے آخری ایام بیماری میں گزرے۔ خاندانی روایت کے مطابق قلیل علالت کے بعد آپ "تور زیړی" نامی بیماری میں مبتلا ہوئے، جسے پشتو میں عام طور پر ہیپاٹائٹس بی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بیماری کی وجہ سے آپ کی طبیعت بگڑتی گئی جبکہ علاج کے لیے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا، جہاں آپ زیرِ علاج رہے۔
بیماری کی شدت کے باعث آپ صحت یاب نہ ہو سکے اور سنہ 2002ء میں اسی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
آپ کے انتقال کی خبر خاندان، عزیز و اقارب اور جاننے والوں کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ آپ کا جسدِ خاکی پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے آپ کے آبائی علاقے دیر واڑی منتقل کیا گیا، جہاں آپ کو واڑی کوٹ کے استقا حاجی مقبرہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

یوں ایک ایسے انسان کی دنیاوی زندگی اختتام پذیر ہوئی جس نے اپنی پوری زندگی خاموش محنت، حلال روزی، خاندان کی کفالت، عاجزی، انسان دوستی اور امن کے ساتھ گزاری۔ اللہ تعالیٰ مرحوم محمود خان بابا کی کامل مغفرت فرمائے، آپ کی قبر کو نور سے منور فرمائے، آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
 - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - 

 سیدہ پاسن بی بی رخمتہ اللہ علیہ 
 1947  - 2017 
زوجہ محمود خان بابا 
والدہ: شاہ آمین خان ،شاہد خان، شیر محمد خان، مختیار علی خان 

فائل فوٹو سیدہ پاسن بی بی رخمتہ اللہ علیہ 
1947-2017 


زوجہ محمود خان سیدہ پاسن بی بی (رخ) آپ کا تاریخی پیدائش پاکستانی قومی ریکارڈ میں دیر نہاگدرہ صندل میں جنوری 1947 ء درج ہے - آپ کا نام سیدہ پاسن بی بی (رخ) تھی - آپ صندل کے ایک معزز سید خاندان سے تعلق رکھتی تھی - آپ کی شجرہ نسب حضرت فاطمہ بنت محمد صل اللہ علیہ وسلم، زوجہ علی رضی اللہ عنہ تک جا پہنچتا ہے - آپ سید قلیمون باچا، سید سپین باچا اور سید باچا کے چچازاد بہن تھی - آپ کی کوئی بھائی نہیں تھا بلکہ تین بہنوں میں 
دوسری نمبر پھر تھی 

سیدہ پاسن بی بی (رخ) کی ایک یادگار تصویر 


محمود خان بابا سے شادی کے بعد محبت اور وفا کی ایک اعلیٰ مثال رہی - آپ نے اپنی زندگی کی سختیاں تلخیاں برداشت کئ اور ہر برے وقت میں اپنے شوہر کے ساتھ رہی - اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ خاندان اور بچوں و نواسو کی پرورش و تربیت کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج اور پالتو جانوروں جیسے بیل گائے مرغیاں پالنے میں گزارا۔ شوہر کے انتقال کے بعد آپ نے اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ زندگی کے باقی سال گزارے۔

آپ انتہائی محنتی، نرم دل نرم خوئی اور محبت کرنے والی 
عظیم عورت تھی 

سیدہ پاسن بی بی (رخ) اپنی والدہ اور نواسی فرحانہ بنت شاہ آمین خان سمیت دوسرے بچوں کے ساتھ یادگار تصویر 


زندگی کے آخری دور 2012ء میں آپ فالج کی طویل علالت میں مبتلا رہیں۔ بیماری کے ساتھ ایک طویل عرصے تک زندگی گزارنے کے بعد 19 فروری سنہ 2017ء میں آپ کا انتقال ہوا۔ جو کہ آپ کے بچوں اور نواسوں کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ تھا - اپ کی انتقال کے بعد اپ کو واڑی ملاگجر کے میاں بابا مقبرہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔




محمود خان بابا اور ان کی اہلیہ کی پاکستانی نشلٹی


یوں دونوں میاں بیوی اپنی اپنی آخری آرام گاہوں میں آسودۂ خاک ہیں، جبکہ آپ کی اولاد اور آنے والی نسلیں آپ کی یاد، محبت، قربانی اور دی ہوئی تربیت کو اپنے ساتھ لیے آگے بڑھ رہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، آپ کی قبر کو نور سے بھر دے، آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
--------------------------------------------------------------------

محمود خان بابا اور آن کے اہلیہ کی زندگی سے ملنے والے اسباق


محمود خان بابا کی زندگی ہمیں سب سے پہلے یہ سکھاتی ہے کہ حلال رزق کے لیے کی جانے والی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ انہوں نے جدید تعلیم یا بڑے وسائل کے بغیر اپنی زندگی شروع کی، لیکن انہوں نے محنت کرنا نہیں چھوڑا۔ کھیتی باڑی ہو یا مزدوری، تندور کا کام ہو یا کوئی اور محنت طلب پیشہ، انہوں نے اپنے خاندان کے لیے ہر جائز کام کو عزت سمجھا۔

ان کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اصل بہادری صرف لڑنے میں نہیں بلکہ لڑائی سے بچنے میں بھی ہے۔ ایک شخص کے پاس بدلہ لینے، دشمنی بڑھانے یا تنازع کا حصہ بننے کے مواقع ہوں، لیکن وہ امن کو ترجیح دے، تو یہ بھی ایک بڑی بہادری ہے۔

محمود خان بابا نے ہمیں یہ مثال دی کہ انسان اپنے ماحول کی تمام روایات کو اپنائے بغیر بھی اپنے لیے ایک بہتر راستہ منتخب کر سکتا ہے۔ ان کے آباؤ اجداد میں شجاعت اور بہادری کی روایات رکھنے والے بزرگ گزرے، لیکن محمود خان بابا نے اپنی زندگی میں امن، عاجزی اور محنت کو اپنی شناخت بنایا۔

ان کی زندگی کا ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ انسان دوسروں کو تکلیف دیے بغیر بھی ایک مضبوط اور باعزت زندگی گزار سکتا ہے۔ انہوں نے کسی کو نقصان پہنچانے کے بجائے اپنے ہاتھوں کی محنت سے اپنی زندگی سنواری۔ انہوں نے دشمنی کے بجائے خاندان کو اہمیت دی، تنازع کے بجائے روزگار کو ترجیح دی اور نفرت کے بجائے انسانیت کو اپنایا۔

ان کی اہلیہ کی زندگی ہمیں وفاداری، قربانی اور گھریلو ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ انہوں نے شوہر کے ساتھ زندگی کی سختیاں برداشت کیں، گھر سنبھالا، بچوں اور نواسوں کی پرورش و تربیت میں حصہ لیا اور گھر کے کام کاج کے ساتھ مویشی اور دیگر پالتو جانور بھی پالے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک ماں اور بیوی خاموشی سے خاندان
کی بنیاد مضبوط کرنے میں کتنا بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔

ان دونوں کی زندگی ہمیں میاں بیوی کی باہمی محبت اور وفاداری کا سبق دیتا ہے ۔ زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، لیکن مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہی حقیقی رفاقت ہے۔ محمود خان بابا اور ان کی اہلیہ نے زندگی کی خوشیوں کے ساتھ مشکلات بھی مل کر برداشت کیں۔ ان کا رشتہ آنے والی نسلوں کے لیے محبت، وفاداری اور ساتھ نبھانے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

  کچھ لوگ گمنامی میں پوری زندگی محنت کرتے ہیں، اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں، کسی کا حق نہیں مارتے، کسی کے لیے نفرت نہیں پھیلاتے اور معاشرے میں امن کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ بظاہر ایسی زندگی سادہ محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہی کردار نسلوں کی بنیاد بنتے ہیں۔
آخرکار محمود خان بابا اور ان کی اہلیہ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کا کردار، اس کی تربیت، اس کی محبت، اس کی قربانیاں اور اس کے اچھے اعمال اس کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کی اولاد اور آنے والی نسلیں دراصل ان کی سب سے بڑی یادگار ہیں۔

محمود خان بابا کی زندگی شاید بڑے تاریخی واقعات، سیاسی عہدوں یا بڑی مالی کامیابیوں سے بھری ہوئی نہ ہو، لیکن ان کی زندگی کی اصل خوبصورتی ان کے کردار میں تھی - وہ ایک ایسے دور کے انسان تھے جس میں زندگی آسان نہیں تھی۔ وسائل کم تھے، مواقع محدود تھے اور محنت زیادہ تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے شکایت کے بجائے محنت، تنازع کے بجائے امن اور غرور کے بجائے عاجزی کا راستہ اختیار کیا۔

آج جب ان کی زندگی کو پیچھے مڑ کر دیکھا جاتا ہے تو ان کی سب سے بڑی میراث ان کی زمین یا مادی چیزیں نہیں بلکہ ان کے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑا ہوا اچھا کردار، محنت کی مثال، شرافت، انسان دوستی اور امن پسندی ہے۔ محمود خان بابا کی داستان ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ بعض انسان تاریخ کی کتابوں میں بڑے ناموں سے نہیں بلکہ اپنے خاندان، اپنے کردار اور اپنے اچھے اعمال کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ محمود خان بابا بھی ایک ایسے ہی خاموش انسان تھے—جنہوں نے اپنی پوری زندگی محنت سے گزاری، کسی کو تکلیف دینے سے گریز کیا، اپنے خاندان کا سہارا بنے اور قبائلی معاشرے کی سخت روایات کے درمیان بھی امن، عاجزی اور انسانیت کو اپنا راستہ بنایا۔

ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت پیغام شاید یہی ہے

انسان کی اصل پہچان اس بات سے نہیں کہ اس نے "
 دوسروں پر کتنی طاقت استعمال کی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اس نے اپنی طاقت، اپنی محنت اور اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے کتنا فائدہ مند بنایا

محمود خان بابا اور ان کی اہلیہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی سادگی، محنت، شرافت، عاجزی اور امن پسندی ان کی اولاد اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک انسان بغیر کسی بڑے منصب، شہرت یا دولت کے بھی اپنے کردار سے ایک ایسی میراث چھوڑ سکتا ہے جو نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔

اللہ تعالیٰ محمود خان بابا اور ان کی اہلیہ دونوں کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی نیکیاں قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین


Comments

Popular posts from this blog

تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر

شاہ آمین خان کی سوانح حیات