تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر
![]() |
لفظ دیر پر سوات اور باجوڑ کے ناموں کے طرح مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہیں - لیکن تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ دیر کا نام بہت پرانا ہے - بےحد قدیم ہے لیکن اختلاف اس لئے ہے کہ یہاں جو تہذیبیں پروان چڑھیں ان کی زبانیں الگ الگ تھیں اس نسبت سے ہر تہذیب کے ساتھ دیر کا نام اس تہذیب کی زبان کی مناسبت سے مختلف رہا - ایک اور وجہ یہ تھی کہ یہاں ماضی میں مختلف اقوام گزرے ہیں ان اقوام کے مورخین نے دیر کو اپنے قومیت اور دیر کے جغرافیائی خدو خال سے یاد کیا - جیسے سکندر اعظم کے ساتھ یونانی مورخین دیر زیریں میں آئے اور انہوں نے اپنے تحریروں میں دیر زیریں کو "گورائے " کے نام سے یاد کیا - بابر کے ساتھ آئے ہوئے مغل مورخین نے اپنے تحریروں میں دیر کو باجوڑ آور گلگت سمیت "یاغستان" سے یاد کیا - جبکہ سولہویں صدی عیسوی میں دیر "بلورستان" کے نام سے مشہور تھا
جب یونانیوں نے 327 قبل مسیح میں مساگا پر حملہ کیا تو اس وقت مساگا کا دارالحکومت دیر کے تالاش نامی علاقہ تھا - جبک مساگا ریاست دیر سے لیکر سوات بونیر اور دریائے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی اسلئے خیال کیاجاتا ہے کہ دیر کا اصل اور سب سے قدیم نام مساگا تھا یونانیوں کے آنے کے بعد دیر کو تین سو سالوں تک مساگا کے نام سے یاد کیا جاتا رہا
قدیم عربی زبان میں لفظ دیر کے معنی خانقاہ ہیں - اور بدھ مت کے عروج کے وقت دریائے پنجکوڑہ کے کنارے بدھ مت کی بستیاں آباد تھیں جن میں سینکڑوں خانقاہیں تھیں - اسلئے یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ شائد اس خانقاہوں کے وجہ سے دیر کو دیر کا نام دیا گیا ہے
![]() |
| پختونخوا کے نقشے میں دیر تلاش کریں |
دسویں صدی عیسوی سے لے کر پندرہویں صدی عیسوی تک دیر پر کوہستانی کافروں کی حکومت رہی - ان کی یہ سلطنت دیر کے زیریں علاقوں سے لئے کر چترال میں کیلاش تک کے وادیوں تک پھیلی ہوئی تھی - جو کہ کافرستان کے نام سے مشہور تھی - اسے نسبت دیر کا اور قدیم نام کافرستان بھی تھا
پندرہویں صدی عیسوی کے بعد دیر میں پختون یوسفزئی قبائل کا ظہور ہوا - اور دو سو سالوں میں کافرستان کی بیشتر رعایا پختون بزرگان دین کی اسلامی تعلیمات کی بدولت مشرف بہ اسلام ہوچکی تھی - بعد میں دیر کے ریاستی یوسفزئی حکمرانوں نے سترھویں صدی عیسوی میں کافرستان تہذیب اور ان کے شاہی خاندان کا بزور شمشیر خاتمہ کردیا - یوسفزئیوں کے فتح کے بعد کافرستان پر فارسی زبان کا اثرورسوخ شروع ہوا اور زمانے کے ساتھ ساتھ لواری پاس سے لیکر ترئی وادی تک کا علاقہ کافرستان سے تبدیل ہو کر وادی دیر کے نام سے مشہور ہوا
![]() |
| پاکستان کے نقشے میں دیر تلاش کریں |
لفظ دیر فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے "بہت دور اور کافی وقت لینا" دیر چونکی 120 کلو میٹر لمبی وادی کے آخری سرے سے بلند و بالا پہاڑوں کے وسط میں واقع ہے - پرانے زمانے میں دیر کا سفر پیدل دشوار گذار اور طویل تھا اس روایات کے مطابق اسی مشکل سفر کی وجہ سے اس علاقے کو "دیر یعنی وقت لینے" والا کا نام دیا گیا
دیر کے بارے میں آب یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ دیر کا سب سے قدیم نام مساگا تھا - خانقاہوں کے کثرت کے وجہ سے ایک عرصے تک عربی زبان میں دیر کہلایا جاتا رہا جبکہ مغل مورخین نے اس دیس کو بلورستان اور یاغستان کے نام سے یاد کیا - اسی طرح یوسفزئیوں سے پہلے یہ کئی صدیوں تک کافرستان کے نام سے مشہور تھا اور آخر میں یوسفزئی قبائل نے ایک دفعہ پھر اس کو دیر کا نام دیا
![]() |
| اپر سنٹرل لوئر دیر کا نقشہ |
تقریباً چھ سو تینتیس کے لگ بھگ ریاستوں میں سے ایک ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلوں کے سائے تلے ریاست دیر ہزاروں سال قدیم سنہری اور عظیم تاریخ رکھتی ہے - اس علاقے میں قدیم آثار کا نظر آنا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس سرزمین پر معلوم نہیں انسان کب سے آباد ہوا یہاں کتنی بادشاہتیں گزری ہوں گی ،کتنی تہذیبیں پروان چڑھیں لیکن مورخین آور آثار قدیمہ کے ماہرین دیر کے تاریخ آب تک صرف چار ہزار سالوں تک بنانے سنوارنے اور دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں -اس علاقے میں بہت سارے تہذیبیں گزری ہیں - ماہرین کا کہنا ہیں کہ یہاں اس علاقے میں پھتر کے زمانے میں انسانی آبادکاری کے آثار پائے جاتے ہیں - اس سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ سرزمین دیر میں انسانی زندگی اور آبادکاری بہت پرانا ہے - اس کے علاوہ دوسرے بڑے پرآنے تہذیبوں کا اثار قدیمہ بھی یہاں پائے جاتے ہیں - جیسے کہ دراوڑ تہزیب ،آرین - آریہ تہزیب ، آتش پرست تہزیب ، گندھارا تہزیب ، یونانی تہذیب ،بدھ مت تہزیب ،چینی زائرین کی آمد، گندھارا آرٹ ،سطلنت اورا، ہن قبائل ،ہندوشاہیہ جیسے تہذیب ، یہاں گزرے ہیں
یوسفزئی سے پہلے دیر پر آباد اقوام میں سے کوہستانی قبائل ہیں جو کہ سوات اور دیر میں آباد تھیں کوہستانی اپنی تاریخ کچھ یو بیان کرتے ہیں کہ ہم صدیوں سے آپنے بزرگوں سے یہ روایت سنتے چلے آرہے ہیں کہ ہم کوہستانی قبائل عرب کے ایک مشہور قبیلے قریشِ سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے جد اول سوات کے قدیم شہنشاہ کا نام راجہ گیرا تھا جس کے آباؤ اجداد اسلام کے ظہور سے پہلے سوات آکر آباد ہوئے تھے 998 ء میں جب محمود غزنوی کی فوج نے گیرا کو بڑی مزاحمت کے بعد شکست دی تو گیرا آپنے اہل وعیال سمیت ہوڈی گرام سے بھاگ کر سوات کوہستان کے پہاڑوں سے ہوتا دیر کوہستان میں پاتراج پہنچ گیا
کوہستانیو کی طرح گجر اور اجڑ بھی دیر کے قدیم ترین باشندے بتائے جاتے ہیں "یوسفزئی پٹھان" نامی کتاب میں اس قبائل کا ذکر ہے کہ یہ قبائل ایک ہزار سال پہلے محمود غزنوی کے لشکر میں شامل ہو کر دیر سوات قبضہ کرنے کے بعد یہاں مستقل طور پر آباد ہوگئے تھے ان کا تعلق نسلاً جاٹ قوم سے ہے یہ گجری زبان بولتے ہیں آج کل یہ جگہ جگہ بستے ہیں مال مویشی چرانا ان کا آبائی پیشہ ہے
کوہستانیو گجر اور اجڑ کے طرح سواتی قبائل بھی ہیں سواتی قبائل بھی محمود غزنوی کے لشکر میں شامل ہو کر کابل سے آئے تھے - غزنوی لشکر فتح حاصل کرنے کے بعد واپس لوٹ گیا اور دلہ زاک اور سواتی قبائل مستقل طور پر دیر اور سوات میں آباد ہوئے -سوات میں رہتے ہوئے اس قبیلے نے سوادی نام حاصل کیا جو بعد میں سواتی بنا - سواتی قبائل کا سوات میں حاصل گاوں کروڑہ ہے -پندرہویں صدی عیسوی میں دلہ زاک قبیلے نے یوسفزئی قبائل کو سواتی قبائل پر حملے کیلئے ابھارا - اس حملے میں شکست کھا کر سواتی قوم دیر اور سوات کو چھوڑ کر ہزارہ کی طرف پسپا ہوئی - یاد رہے کہ یوسفزئیوں نے پورے علاقے پر قبضہ کر کے صرف کروڑہ گاؤں سواتی قبائل کے تصرف میں چھوڑ دیا- پہلے یہ قبائل اس گاؤں تک محدود رہے اور بعد میں رفتہ رفتہ دیر اور سوات کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے
![]() |
| خوبصورت دیر جاز بانڈہ |
جب یوسفزئی نے کابل سے ہجرت کر کے پشاور آئے اور پھر 57 سالوں میں مختلف جنگیں لڑیں مختلف سلطنتوں کو فتح کیا اور پورے پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد 1523 میں شیخ ملی تقسیم میں جنوباً ملاکنڈ سے لیکر شمال میں وادی سوات شاہ گرام اور وادئ دیر میں خان کس داروڑہ تک جائداد سردار اکو کے حصے میں آئی - تب سے دیر اور سوات پر یوسفزئی آباد ہیں- اسلئے دير اور سوات کو یوسفزئی ریاستیں کہا جاتا ہیں اور دونوں دیر اور سوات پر یوسفزئی خاندانوں نے بادشاہت کئی ہیں - دیر اور سوات کے یوسفزئیو ں کا آپس میں تعلق چچازادو کا ہیں تبی اس دونوں ریاستوں کے آپس میں بھی بہت جنگیں ہوئیں ہیں - یوسفزئیو کے ساتھ دیر اور سوات میں دوسرے قبائل بھی دیر سوات میں آباد ہیں جو کہ کچھ وہ قبائل ہیں جنہوں نے جنگوں میں یوسفزئیوں کے ساتھ دیا تھا - اور بعض دوسرے علاقوں سے ہجرتِ کر کے پہلے سے آباد تھیں یا بعد میں آئے تھیں
•••
ریاست دیر "یوسفزئی ریاست" کے پہلا حکمران آخوند الیاس جو کہ یوسفزئی ملیزئی کے پائندہ خیل کے زلی شاخ بھامت خیل سے تھا - ان کا تعلق دیر واڑی کے علاقہ نہاگدرہ کوند سے تھا ایک مزہبی عالم دین شخص تھا - اس زمانے میں دیر میں علم کی شدید پیاس کے ساتھ کافروں کی آبادی بھی زیادہ تھی اسلئے ملا آخوند کے گرد لوگوں کا مجمع رہتا- اس طرح آخوند مختصر عرصے میں ایک نامور عالمِ کے طور پر ابھرے - مزہبی علم کے علاؤہ لوگ مریضو کے شفا یابی کے لئے ان کو ساتھ لاکر دعا کی درخواست کرتے بعض اوقات قبائلی تنازعات کے حل پانے کی صورت میں ان کے بدلے آخوند الیاس کو زمین کے علاوہ نقدی مال مویشی اور اچھے تحائف پیش کرتے - یہی وجہ تھی کہ آخوند کے پاس جائداد مال مویشی اور اناج کا ایک بڑا زخیرہ جمع ہوگیا -اس متقی عالم دین نے 1676 میں وفات پائی اور وصیت کے مطابق لاجبوک درہ میں دفنایا گیا تھا
![]() |
| 1583 - 1676 |
آخوند الیاس کے بعد ان کے بیٹے ملا اسماعیل 1676ء تا 1753ء تک گدی نشین رہا اس نے والد سے کمال فیض حاصل کیا تھا اور دیر نہاگدرہ سے دیر بیبیور منتقل ہوگیا تھا - بیبیوڑ منتقل ہونے کے تین وجوہات میں پہلا یہ کہ نہاگدرہ تک سفر مشکل تھا دوسرا یہ کہ وہاں پر جائیداد ملی تھی - تیسرا یہ کہ وہاں سے کفار کی آبادی زیادہ تھی اور اس مزہبی خاندان کے وہاں دین کے اشاعت کا آچھا موقع تھا
ملا اسماعیل کے بعد خان غلام خان1752ء تا 1804 تک ریاست دیر کا تخت نشین رہا- خان غلام خان کو اپنے دادا آخوند الیاس اور والد مولا اسماعیل سے بہت سی جائداد اور مال ودولت حاصل ہوئی اسلئے وہ علمی دلچسپی کے بجائے دنیاوی مال ومتاع اور حکمرانی میں دلچسپی لینے لگا - نوکر چاکر رکھ کر اس نے بیبیوڑ میں حکمرانی کی بنیاد رکھی اور خان بیبیوڑ کے نام سے مشہور ہوا یہی وجہ ہے کہ دیر کے شاہی خاندان میں یہ دنیاوی حکمرانی کا بانی کہلایا جاتا ہے
غلام خان کے بعد خان ظفر خان 1804ء تا 1814 تک تخت نشین رہا - یہ اپنے والد سے بھی زیادہ بیدار اور مغز ثابت ہوا اس نے باقاعدہ تنخواہ دار فوج بنائی اور آس پاس علاقو کے قبائلی سرداروں کو اپنے تابع کیا - اس حکمران کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے جنگوں کا سلسلہ شروع کیا اور یوسفزئی قبائل کو لئے کر کافرستانی حکومت کا خاتمہ کیا اور بیبیوڑ سے خاص دیر منتقل ہوا اور وہاں کے کافروں کے قلعے کے جگہ دوسرا قلعہ بنایا اور خاص دیر کو دیر کے دارالخلافہ کا حیثیت دی -دیر پر حقیقی بادشاہت کا آغاز کرنے والا خان ظفر خان جب فوت ہوئے تو وصیت کے مطابق بیبیوڑ میں سپردِ خاک ہوئے
ظفر خان کے بعد خان قاسم خان شھید1814ء تا 1822ء تک تخت نشین رہا دیر کا - یہ بھی ایک مغز اور جنگجو حکمران ثابت ہوئے اگر ظفر خان نے دیر کافرستان شاہی خاندان کا خاتمہ کیا -تو خان قاسم نے درجنوں لشکر کشیوں کے بعد آپنی سلطنت کاجھنڈا پہلی دفعہ مغرب میں اسمار اور جنوب میں سخاکوٹ پر لہرا دیا
قاسم خان کے بعد خان غزن خان 1822ء تا 1868ء تک تخت نشین رہا
اور پھر غزن خان کے بعد خان رحمت اللہ خان 1870ء تا 1884 تک تخت نشین رہا
خان رحمت خان کو آپنے دؤر حکومت میں ایک طرف اقتدار کے لئے اپنے نو بھائیوں کا مخالفت کا سامنا تھا تو دوسرے طرف اپنے بیٹا خان شریف خان اس کے لئے دوسرا سر درد بنا تھا جب اس نے اپنا بیٹا دیر سے جلا وطن کر دیا تو ان کا بیٹا سیدھا جندول کے عمرا خان کے پاس پہنچا اور عمرا خان کے لشکر کو لے کر اپنے والد پر حملہ آور ہوا اور اسی طرح جندول کے عمرا خان پورا دیر کو قبضہ کرنے میں ناکام رہا خان رحمت خان چار سالہ جندول کے عمرا خان کے ساتھ لڑنے کو ترجیح دیا اور آخر کار جندول سے اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کرنے کے جنگ میں مصروف تھا کہ جزام بیماری لاحق ہونے سے اچانک فوت ہوگیا
خان رحمت اللہ خان کے بعد خان شریف خان 1884ء تا 1890ء تک اقتدار پر قبضہ جما لیا
١٨٩٠ء ابتدائی ایام میں جندول کے حکمران عمرا خان نے دیر پر دو طرفہ حملے کر کے دیر کو ریاست جندول میں ضم کر لیا عمرا خان وآپس جندول روانہ ہوئے اور دیر پر اپنا بھائی محمد شاہ خان کو گورنر مقرر کیا - اور دیر کے معزول حکمران خان شریف خان کو دیر سے نکال دیا خان شریف خان دیر سے سوات منتقل ہوا
پانچ سالوں تک دیر ریاست جندول ریاست میں تھا اور ان پر حکمران عمرا خان تھا عمرا خان کا انگریزوں کے ساتھ لڑائی میں انگریزوں نے عمران خان کو شکست دے کر ان سے جندول دیر چترال کے علاقے قبضہ کر لئے تو 1895ء میں انگریزوں نے ملاکنڈ ایجنسی کا قیام عمل میں لاکر انگریزوں نے ملاکنڈ کو دارلخلافہ کی حیثیت دی اور پولیٹکل ایجنٹ کو ریاست دیر ریاست سوات اور ریاست چترال پر حاکم عالٰی مقرر کیا
![]() |
| غازی عمرا خان" سلطنت جندول حکمران "کا فائل فوٹو |
معاہدے کے رو سے انگریزوں نے 12 دسمبر 1897ء کو چکدرہ میں خان محمد شریف کو ریاست دیر کے پہلے نواب کا خطاب دیا گیا - اس روز چار سو رائفلو کے علاوہ دس ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ مقرر کرنے کے ساتھ نواب کو عمرا خان کے خلاف ساتھ دینے پر پچیس ہزار رقم ادا کی گئ اور اس سے اس کی عوض درگئ معاہدہ کا پابند رہنے کا حلف لیا
ریاست دیر میں نوابی کا آغاز 1895 میں ہوا دیر نواب اول خان محمد شریف خان 1895ء تا 1904ء ریاست دیر کا پہلا نواب اور نواں حکمران تھا
![]() |
نواب شریف خان اپنے بیٹے نواب اورنگزیب خان المعروف چاڑہ نواب کے ساتھ فائل فوٹو |
نواب اول خان محمد شریف خان کے بعد ان کا بیٹا نواب دوم محمد اورنگزیب خان المعروف بادشاہ خان وچاڑہ نواب 1904ء تا 1924 تک تخت نشین رہا
نواب دوم محمد اورنگزیب خان المعروف چاڑا نواب کے بعد ان کا بیٹا نواب سوم محمد شاہ جہاں خان 1924ء تا 1960ء تک تخت نشین رہا
١٩٦٠ء میں ریاست پاکستان نے نواب سوم محمد شاہ جہاں کو گرفتار کرلیا اور ریاست دیر کی خودمختاری ختم کر کے ریاست پاکستان میں بطور ریاست شامل کر لیا جبکہ نواب شاہ جہاں کا بیٹا نواب شاہ خسرو 1960 سے 1969 تک ریاست دیر کا نواب رہا
![]() |
نواب سوم شاہ جہان خان اپنے بیٹوں نواب شاہ خسرو اور شہاب الدین خان "خان منڈہ و جندول" اور محمد شاہ خان "حیا سیری خان" کے ساتھ فائل فوٹو |
١٩٦٩ء میں ریاست پاکستان نے ریاست دیر کا مکمل طور پر ریاستی حیثیت ختم کر کے ریاست دیر کو ضلع کا درجہ دیا جبکہ 14 اگست 1996ء کو اس ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ضلع دیر بالا اور ضلع دیر پائین کے نام دئیے گئے اس تقسیم کی رو سے آج کل دیر بالا کا کل رقبہ 3699 مربع کیلومیٹر ہے جبکہ دیر پائین کا کل رقبہ 1585 مربع کیلومیٹر ہے - جبکہ 2023 میں صوبائی اسمبلی سے ضلع دیر وسطی کا نوٹیفکیشن بھی ہوا ہے جو کہ عنقریب دیر کو تین اضلاع میں تقسیم کیا جائے گا - جبکہ یہ تین اضلاع اس سے پہلے خیبر پختون خواہ مالاکنڈ ڈویژن میں شمار ہوتے تھے جو کہ عنقریب ایک نیا ڈویژن کے لئے بھی کوششیں کیا جا رہا ہے جبکہ دیر نئے ڈویژن کا حصہ ہوگا
ریاستی حیثیت ختم ہونے سے لے کر آب تک دیر ضلعے کے حیثیت سے ریاست پاکستان کا حصہ ہے یہاں پر پاکستان کے قانون نافذ ہے اور یہاں سے قومی اسمبلی کے 3 نشتیں ہیں
وسیم خان یوسفزئی









Comments
Post a Comment