وطن ریاست آزادی اور پاکستان
![]() |
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وطن سے محبت انسان کی فطری عمل ہے جو کہ ہر کسی کو اپنا وطن عزیز سے ہوتا ہے وطن سے مراد وہ زمین و مٹی ہے جہاں پر انسان پیدا ہوتا ہے جہاں پر رہتا ہے جہاں پر وہ دنیا میں اتا ہے-چاہیے ریاست ہو یا نہ ہو وطن ضرور ہوگا - وطن کسی جھنڈے حکومت بادشاہت حکمرانی راج قوانین کی محتاج نہیں ہوتا- وطن زمین کے کسی بھی حصے کو کہا جاسکتا ہے جہاں پر انسان آباد ہوں - جبکہ ریاست راج حکمرانی بادشاہت قوانین اور ایک نظام کانام ہے جو کہ ریاست کا بنیادی مقصد انسانوں کے فلاح کےلئے کام کرنا انسانوں کے آپس میں انصاف قائم کرناعوام کوروزگار دینا سہولیات دینا انسانوں کے لئے قوانین بنانا تاکہ کوئی ظلم کا شکار نہ ہوجیسے وغیرہ وغیرہ کے لئے ریاست کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے- دنیا کی تاریخ میں ریاستیں زبردستی طاقت سے بھی بنائیں گئے ہیں مفادات بادشاہت اور راج کرنے کے غرض سےجبکہ ایک ریاستی نظام ظلم وجبر سے تنگ لوگوں نے خود کو آزاد کرنےکےغرض سے بھی بنائیں ہیں - اسلئے ریاست سے بغاوت کا ہر گز وطن سے غداری مراد نہیں ہوسکتا - کیونکہ وطن ایک جگہ پر موجود ہوتا ہے جبکہ ریاستیں بدلتی رہتی ہیں- جیسے کے پاکستان سے پہلے پختونخوا وطن ریاست برطانیہ کاحصّہ تھا جبکہ ریاست برطانیہ سے پہلے ریاست ھندوستان اور ھندوستان سے پہلے افغانستان کا حصہ تھا پختونخوا وطن ایک ہی جگہ پر پڑا ہے لیکن کئی ریاستوں کا حصہ رہ چکا ہیں
جبکہ آزادی سے مراد انسان کو کھلی عام چھوڑنا ہے جہاں پر انسان مکمل طور پر آزاد ہو اپنے فیصلے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزاریں چاہیے کوئی جو بھی عقائد اپنائے اپنے خیالات کا اظہارِ کریں یا کھلی عام تنقید کیا جائے غلطیوں پر اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھایا جائے - وطن میں یہ آزادی موجودہوتا ہےجہاں پر بہت آزادی کا غلط فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ ظلم کاشکارہوجاتے ہیں اسلئے وہاں پرریاستی نظام قائم کیا جاتا ہے - جس نظام میں قوانین ہوتا ہے جو کہ آزادی کو انصاف اور انسانیت کے حد تک محدود رکھتا ہےجہاں پر ریاست اپنے زمہ داریاں نبھاتا ہیں اور لوگوں کو انصاف اور انسانیت کے تحت آزادی فراہم کرتا ہیں جبکہ انسانیت کے فلاح کے لئے ایک نظام قوانین تیار کر کے لوگوں کے فلاح کے لئے کام کرتے ہیں
پاکستان ایک ریاست ہے جو کہ کئی وطنوں سے مل کر کچھ لوگوں کے ایک سوچ کے تحت بنا ہے - پاکستان کا مطالعہ پاکستان کہتا ہے کہ پاکستان بنانا علامہ اقبال کا خواب اور قائد اعظم کے کوششوں سے ممکن ہوا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے ایڈورڈ تھامسن کو خط لکھا تھا جس میں لکھا تھا کہ میرا تجویز ریاست ھندوستان کے اندر مسلمانوں کا الگ صوبہ بنانا ہے ریاست ھندوستان سے الگ ریاست بنانا میرا اسیکم نہیں بلکہ کیمرج اسکیم کا حصہ ہے - جب دوسری جنگ عظیم میں کئی ممالک شریک تھیں جس میں برطانیہ سرپرست تھا اور دوسری جنگ عظیم میں ان تمام ممالک نے بڑا مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا جبکہ اس وقت انڈیامیں برطانیہ سے آزادی کا تحریکیں بھی چل رہی تھی - اسلئے برطانیہ نے ھندوستانیوں سے حلف لیا تھا کہ ھندوستان کے نوجوان دوسری جنگ عظیم میں ہمیں سپورٹ کریں اگر ہم جنگ جیتے تو ہم ھندوستان کو خیر آباد کہہ کر چھوڑینگے اور اسی طرح ھندوستان نے بھی دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کا ساتھ دیا تھا جب 2 ستمبر 1945 کو دوسری جنگ عظیم ختم ہوا جنگ کے بعد برطانیہ کے لئے بھی ھندوستان کو ساتھ لے کر چلنا مشکل تھا اسلئے برطانیہ نے ھندوستان ریاست کو چھوڑنا چاہا - اور اسی طرح ھندوستان آنگریزوں نے خود چھوڑ کر آزاد ہوا برطانیہ کے جانے کے بعد ھندوستان میں مسلم ھندو فسادات شروع ہوئے شاید یہ بھی انگریزوں کا چال تھا جو کہ ہندوستان ریاست کو توڑنا چاہ رہے تھے اور اسی طرح 15 اگست 1947 پر انڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا گیا ایک کو پاکستان کا نام جبکہ دوسرے کو ھندوستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہیں - علامہ اقبال کے خط کا اندازہ یہاں پر لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میرا اسکیم نہیں بلکہ کیمرج کا اسکیم ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کا پہلا سربراہ برطانیہ کا بادشاہ ہوا کرتا تھا جبکہ 1947 سے لے کر 1956 تک یہ سلسلہ چلتا آرہا تھا اور پھر صرف دو سال بعد 1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تھا
آج 78 سال بعد پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد حکومت اور اکثریت عوام کا خیال ہیں کہ پاکستان ایک آزاد ریاست ہیں جبکہ خصوصاً پختونخوا میں اس حوالے سے اکثریت لوگ آزادی سے منکر ہیں اور ہونا بھی چاہیے جس کے بڑے وجوہات میں سے بہت سارے ہیں لیکن پاکستان کے بننے کے صرف ایک سال بعد بابڑہ کے مقام پر ریاست پاکستان نے ایک ساتھ 600 انسانوں کو قتل کردیا تھا. پاکستان بننے سے آب تک 86 ہزار سے زیادہ پشتون لوگوں کو بغیر کسی بڑے جنگ کے بے گناہ بم دھماکوں ٹارگٹ کیلنک میں قتل کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں کو میسنینگ کرچکے ہیں وسائل پر قبضہ حقوق کا نہ ملنا اظہار آزادی رائے پر پابندی اداروں پر ملٹری کا راج بے روزگاری غلط پالیسیاں اور قوانین ملٹری کا آئین اور قوانین پر عمل نہ کرنا سہولیات کا نہ ملنا جیسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں جس کے وجہ سے آزادی منانا اور آزادی کا اظہار کرنا بے کار ہیں
وسيم خان یوسفزئی

Comments
Post a Comment