سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں پاک آرمی کے حاضر سروس آفیسر کے فائر کرنے والا واقعہ
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں طلباء اور پاک آرمی کے حاضر سروس آفیسر کے فائر کرنے والے واقعے کے بعد ایک ریٹائرڈ میجر لکھتے ہے
" جہاں تک مجھے اس ادارے کے اندرونی اصول کا پتہ ہے اس آفیسر کو قید نہیں کیا جائے گا بلکہ ایک لیٹر آئے گا - Thanks for the Service اور اسے ریٹائرڈ کیا جائے - اس آفیسر کو اس غلطی کےلئے نہیں کہ اس نے فائر کیا یا طلباء کو مارا ڈرایا دھمکایا بلکہ اس آفیسر کو اس غلطی کےلئے ہٹایا جائے گا کہ آپ اکیلے کیوں گئے تھے؟ آفیسر تو گھر جائے گا لیکن ساتھ ساتھ ملوث طلباء کے مستقبل بھی تباہ ہوگا "
ایک ریٹائرڈ میجر کے اس گفتگو سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ ادارہ عام شہریوں کو کچھ بھی نہیں سمجھتا - بلکہ اپنے ادارے کے وقار کو عام شہریوں کے تحفظ اور فرائض سے کئی اوپر رکھتا ہے جبکہ ادارے کے حاضر سروس آفیسرز کے غلطیوں کو defined کرنا اور ان کا تحفظ کرنا بھی اپنا اولين فرض سمجھتا ہے -
اس واقعے کے اوپر اگر بات کیا جائے تو طلباء کے اپنے حقوق کےلئے پروٹسٹ کرنا یا اپنے پروفیسرز کے حق کےلئے کھڑا ہونا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایشیائی ممالک میں یہ روایات صدیوں سے آرہا ہیں - دوسرے جانب ایک حاضر سروس آفیسر کا وردی میں اپنے بیوی کے کہنے پر ایک تعلیمی درسگاہ جانا اور پروٹسٹ کرنے والے طلباء کو آپنے آفیسر والے سٹیک سے مارنا اور ڈرانا دھمکانا بلکل حیرت انگیز رویہ اور قابل افسوس تھا - یہ تکبرانہ رویہ طلباء کو مارنا ڈرانا دھمکانا خود طلباء کے برداشت کا امتحان لے رہا تھا جس پر طلباء نے حاضر سروس آفیسر کو وردی میں کالر سے پکڑا اور ایک دوہ مکے مارے - جس کے بعد آفیسر اپنا پستول نکال کر تعلیمی درسگاہ میں طلباء کے بیج فائر کرتا ہے جو کہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے - جبکہ آفیسر کے اس غلطی کو ڈیفنڈ کرنا شرمناک ہے

Comments
Post a Comment