دنیا اور زندگی پر سائنسی تحقیق
![]() |
دنیا اور زندگی کی تخلیق پر کئی سائنسدانوں نے سائینسی اصولوں کے تحت تحقیق اور نظریات پیش کئے تھیں لیکن وقت وقت کے ساتھ دوسرے سائنسدانوں کے طرف سے اسے ریجیکٹ کئے گئے ہیں - اسلئے وہ تحقیقات ناکام ہوچکے ہیں جبکہ سائنسی تحقیق کے رو سے اب تک کے سب سے زیادہ مقبول اور تسلیم شدہ نظریہ و تحقیق (بگ بینگ تھیوری) ہے
بگ بینگ تھیوری پیش کرنے والے سائنسدانوں میں جارج لیمترے ایک بیلجیئن سائنسدان اور پادری جنہوں نے بگ بینگ تھیوری کی بنیاد 1927 میں رکھی- اور اس کے بعد مختلف سائنسدانوں نے مختلف اوقات میں تجربات مشاہدات کر کے اس تھیوری کو آگے بڑھایا جن میں سے جارجز لیمتر 1927 کے بعد ایڈوین ہبل 1929، رالف الفر اور رابرٹ ہرمن 1948، آرنو پینزیاس اور رابرٹ ولسن 1965، اسٹیفن ہاکنگ 1970، الن گتھ 1981، جیمز پیبلز 2019
![]() |
| بک بینگ فرضی تصویر |
بگ بینگ تھیوری کے مطابق کائنات کی ابتدا تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک نہایت چھوٹے گرم اور کثیف نقطے سے ہوئی - یہ نقطہ اچانک ایک زبردست دھماکے بگ بینگ کے زریعے پھیلنا شروع ہوا جس کے نتیجے میں وقت، مکان اور مادہ کا آغاز ہوا - بگ بینگ کے بعد کائنات تیزی سے پھیلنے لگی اور آج تک پھیل رہی ہے- پھیلاؤ کے ساتھ کائنات ٹھنڈی ہوتی گئ جس نے زرات کو آپس میں مل کر ایٹمز بنانے کا موقع دیا - تقریباً دو سو میلن سال پہلے ستارے وجود میں آئیں - ان ستاروں کی موت کے نتیجے میں بھاری عناصر جیسے کاربن، آکسیجن اور نائٹروجن وجود میں آئیں ، کہکشاں جن میں اربو ستارے شامل ہیں اسی دوران بنیں - تقریباً 4.6 ارب سال پہلے سورج کے گرد گیس اور بادلوں سے نظامی شمسی تشکیل پایا - جبکہ زمین بھی اسی عمل کے دوران وجود میں آئی - ابتدائی زمیں گرم اور غیر آباد تھی تقریباً 3.5 ارب سال پہلے زمین پر زندگی کے ابتدائی نشانات ملتے ہیں - یہ ابتدائی زندگی یک خلوی پر مشتمل تھی بعد میں یہ ارتقاء پزیر ہوکر مختلف اقسام کے پودے حیوانات آور بالآخر انسانوں کے شکل میں بدل گئی - ابتدائی ماحول میں موجود گیسوں، پانی، اور توانائی مثلاً ( بجلی یا سورج کی شعاعیں) کے زریعے پہلی زندگی پیدا ہوئی جبکہ ابتدائی زندگی بیکٹریا جیسی تھی-تقریباً 1.2 ارب سال پہلے زمین پر پودے ظاہر ہوئے یہ پانی میں پائے جانے والے پودے تھے-500 میلن سال پہلے زمین پر جنگلات اور دوسرے پودے وجود میں آئے - جس نے زمین کی فضا کو زندگی کے قابل بنایا
![]() |
| کہکشاں جہاں زمین سمیت اٹھ سیارے اور کھربوں ستارے سورج کے گرد موجود ہیں |
سائنسی تحقیق کے رو سے کہتے ہیں کہ بگ بینگ کے بعد ہائیڈروجن اور ہیلم جیسے عناصر وجود میں آیا- ستاروں کے موت کے دوران کاربن، آکسیجن اور نائٹروجن وجود میں آیا جو کہ زندگی کے لئے بنیادی ضرورت رکھتا ہے - پھر زمین کے تشکیل کے دوران یہی عناصر پانی گیسوں اور معدنیات کے ساتھ مل کر زندگی کی اجزا بنی-تقریباً 3.5 ارب سال پہلے سمندر میں موجود کیمیائی اجزا جیسے امینو ایسڈ سے زندگی کی بنیادی خلیات بنے - یہ ابتدائی خلیات یک خلوی تھے جو زندگی کے پہلے مظہر تھے بیکٹریا کے شکل میں - اور پھر یہ جاندار ارتقاء کے دوران پیچیدہ تر ہوتے گئے - پھر تقریباً 60 لاکھ سال پہلے افریقہ میں بندروں سے مشابہت رکھنے والے جاندار وجود میں آئے- ان جانداروں میں ارتقائی تبدیلیاں ہوئیں جیسے دو ٹانگوں پر چلنا، دماغ کا حجم بڑھنا، اوزار استعمال کرنا- پھر ارتقائی عمل میں 20 لاکھ سال پہلے اواز بنانے اور استعمال کرنے کے قابل ہوئے-18 لاکھ سال پہلے سیدھا کھڑا ہوکر چلنے والے انسانوں کا نسل یہ آگ استعمال کرنا جانتی تھی- 4 لاکھ سال پہلے یورپ اور ایشیا میں رہنے والے انسانوں کا نسل جو سخت موسمی حالات میں رہتے تھے اور پھر 2 لاکھ سال پہلے آج کے انسانوں کی نسل جوافریقہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گئ
![]() |
| زمین سیارہ |
![]() |
| مریخ سیارہ |
آسان الفاظ میں اگر کہا جائے تو سائنس کہتا ہے کہ آج سے تیرا ارب آٹھ کروڑ سال پہلے دنیا کی تخلیق ایک زور دار دھماکے سے ہوا اور پھر اس دنیا میں زندگی کا شروعات آج سے تین ارب پانچ کروڑ سال پہلے سمندر میں بیکٹریا شکل کے ایک خلیے سے ہوا اور وہ خلیہ رفتہ رفتہ ارتقاء کے دوران مختلف شکل اختیار کرلیتا اور بڑا ہوتا گیا - جبکہ آج سے ایک ارب دو کروڑ سال پہلے پودے پانی میں ظاہر ہوئے اور پھر 500 میلن سال پہلے زمین پر جنگلات اور دوسرے پودے ظاہر ہوئے - جس نے زمین پر زندگی کو موقع فراہم کیا- جبکہ آج سے 60 لاکھ سال پہلے افریقہ میں بندروں والے شکل کے جاندار وجود میں آئیں اور اس میں رفتہ رفتہ ارتقائی تبدیلیاں ہوتی رہی جبکہ آج سے 2 لاکھ سال پہلے افریقہ میں آج کے انسانوں والے نسل وجود میں آیا - اور پھر وہاں سے پوری دنیا میں مختلف اداروں میں خوراک کی کمی کے وجہ سے پوری دنیا میں ہجرت کر کے پھیل گیا
وسیم خان یوسفزئی





Comments
Post a Comment