دنیا اور زندگی کی تخلیق پر مختلف مزاہب کا عقائد، نظریات اور فلسفے



دنیا کا یہ نظام کھربوں سالوں سے یا ایک نامعلوم مدت سے چل رہا ہے - جس طرح یہ نظام ایک نامعلوم مدت سے چل رہا ہے ٹھیک اسی طرح اس نظام میں انسان اور دوسرے جاندار بھی کھربوں سالوں سے یا نامعلوم مدت سے رہ رہے ہیں - اس حوالے سے مختلف مکتب فکر کے لوگوں اور مزہبی عقائدوں کے مختلف رائے اور خیالات ہیں


دنیا اور جاندار و انسانی تخلیق پر مختلف مزاہب کا عقائد 

اسلام

 جیسے کہ اسلامی مزہب کا نقطہ نظر ہے - اور مسلمانوں کا ماننا ہیں کہ قرآن مجید اللہ پاک کا کتاب ہے آور اس میں لکھے گئے باتیں ہر حال میں بلا شک درست ہیں جس کو کسی تحقیق کی ضرورت نہیں - چاہیے وہ باتیں عقل کو مطمئین کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی باتیں ہیں اور جیس نے ان باتوں سے انکار کیا وہ مسلمان نہیں ہے اسلئے بلا شک و عقل اور تحقیق کے اس باتوں کو ماناجاتا ہیں- اسلامی نقطہ نظر میں دنیا کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں کیا اللہ تعالیٰ جو کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہوجا! اور وہ ہوجاتی ہے - زمین اور آسمان پہلے آپس میں جوڑے ہوئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پھاڑ دیا اور دنیا کو تخلیق کیا جبکہ اس دنیا میں تمام جانداروں کا تخلیق اللہ پاک نے پانی سے کیا - اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کو مختلف اقسام اور مقاصد کے ساتھ پانی سے پیدا کیا - اور انسانی زندگی کا شروعات یا انسان کا تخلیق اللہ نے مٹی سے کیا - حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلا انسان مٹی سے پیدا کیا اور اس میں اپنا روخ پھونک دیا -پھر حوا علیہ السلام کو آدم کے ذات سے پیدا کیا اور اس کو اس کا جوڑا بنایا-حضرت ادم اور حوا کے زریعے انسانی نسل دنیا میں پھیل گئی - جبکہ یہ دنیا اور اس دنیا میں موجود تمام چیزیں اللہ نے انسانوں کے لئے پیدا کیا اور انسان اور جنات کو اپنے عبادت کےلئے پیدا کیا - اور اسی طرح اسلامی نقطہ نظر میں دنیا اور دوسر جاندار سمت انسانی زندگی کا آغاز ہوا ہے 


عیسائیت 

جبکہ عیسائیت یا مسیحیت مزہب کے نقطہ نظر میں عیسائی بائبل کو خدا کا کتاب مانتا ہے اور دنیا اور انسان و جاندار کے حوالے سے بھی عیسائیت کا ماننا ہے کہ خدا نے اس دنیا کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا پہلے دن روشنی اور آندھیرا، دوسرے دن آسمان، تیسرے دن زمین آور پانی، اور دیگر دنوں میں سورج چاند، ستارے،، پودے جانور، آور آخر میں انسان کو مٹی سے تخلیق کیا - آدم کو مٹی سے بنایا اور اس میں زندگی کی روخ پھونکی گئی - حوا کو آدم کے پسلی سے پیدا کیا گیا تاکہ وہ اس کا ساتھی ہو- جبکہ عیسائیت کے مطابق تمام انسان آدم اور حوا کے اولاد ہیں - اور اللہ نے انسان کو اپنے عبادت کے لئے پیدا کیا ہیں

 


 یہودیت 

جبکہ یہودیت میں دنیا کی تخلیق کا نظريہ ہے- یہودیت کے مطابق دنیا کو اللہ نے چھ دنوں میں پیدا کیا آدم اور حوا کو اللہ نے جنت میں مٹی سے پیدا کیا اور انہیں زمین پر آزمایا گیا اور اس سے انسانی زندگی کا آغاز کیا - اسلام،عیسائیت، اور یہودیت میں دنیا کی تخلیق اور جاندار و انسان کی تخلیق کا نظریہ ایک جیسا ہے

 ہندومت

 جبکہ ہندومت مزہب کے کئ نظریے ہیں اس حوالے سے ہندو مت کے مطابق دنیا کی تخلیق حفاظت اور تباہی تین اہم دیوتاؤں کے زریعے ہوتی ہے - برہما : تخلیق کا دیوتا جو دنیا اور جانداروں کو پیدا کرتا ہے - وشنو : حفاظت کا دیوتا جو دنیا کے نظام کو قائم رکھتا ہے - شیو: تباہی کا دیوتا جو پرانی دنیا کو ختم کر کے نئ دنیا کےلئے جگہ بناتا ہے - ھندو مت کے مطابق دنیا ایک مایا (وہم) ہے - جو اصل حقیقت نہیں بلکہ ایک خواب جیسے حقیقت ہے - برہما نے یہ دنیا ایک مایا کے زریعے پیدا کی تاکہ جانداروں کو ان کے کرموں اعمال کے مطابق آزمایا جاسکے- دنیا کی تخلیق پرکرتی (فطرت یا مادہ) اور پروش (روح یا توانائی) کے ملاپ سے ہوئی (پرکرتی وہ قوت ہے جو جسمانی دنیا کو تشکیل دیتی ہے) پروش وہ قوت ہے جو روحانی طاقت مہیا کرتی ہے - برہما جو انسانی تخلیق کار دیوتا ہے برہنا نے دنیا اور انسان کو اپنے زہن کے طاقت سے پیدا کئے - برہما نے مختلف عناصر جیسے پانی مٹی اور ہوا کو استعمال کرتے ہوئے جاندار تخلیق کیے جبکہ انسانوں کو دیوتاؤں کی خدمت اور کائناتی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہیں - ھندو مت میں منو کو انسانیت کا پہلا شخص سمجھا جاتا ہے منو کو شتر روپہ نامی خاتون کے ساتھ بنایا گیا اور ان دونوں سے انسانی نسل کا آغاز ہوا

 بدھ مت

بدھ مت مزہب میں کائنات اور انسانی تخلیق کے کوئی مخصوص نظریہ نہیں پایا جاتا - بدھ مت کا زور کائنات کے تخلیق کے بجائے انسانی تجربے، دکھ، اور نجات کے راستے پرہوتا ہے-تاہم بدھ مت کا بنیادی نظریہ کائنات کے بارے میں یہ ہے کہ بدھ مت میں کائنات ایک مستقل تخلیق یا اختتام کے حالات میں نہیں مانا جاتا بلکہ اسے ایک دائمی چکر کا حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں کائنات مسلسل بنتی اور ختم ہوجاتی ہے خود بخود- جبکہ کائنات کا کوئی تخلیق کار یا خالق موجود نہیں ہے - کائنات کے مختلف دورانیے ہوتے ہیں جن میں یہ پیدا ہوتی ہے، تباہ ہوتی ہے اور پھر دوبارہ بنتی ہے - بدھ مت کائنات کی تخلیق کو کسی الٰہی عمل سے نہیں جوڑتا، بلکہ اسے ایک مسلسل سائیکل سمجھتا ہے۔ زندگی کا مقصد دکھ سے نجات پا کر نروان حاصل کرنا ہے۔بدھ مت میں انسانی زندگی کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ انسان کی موجودہ زندگی پچھلے اعمال (کرم کا نتیجہ ہے، اور موت کے بعد روح کا دوبارہ جنم ہوتا ہے جب تک کہ نروان (نجات) حاصل نہ ہو جائے۔

 سکھ مت

سکھ مت مزہب دنیا اور انسانی تخلیق کے تفصیلات میں نہیں جاتا - سکھ مت مزہب کا ماننا ہے خدا کے حکم سے کائنات وجود میں آئی ۔ تمام مخلوقات مٹی، پانی، آگ، ہوا، اور آسمان سے بنائی گئیں۔ خدا نے ان مخلوقات میں روحانی توانائی (آتما) پھونکی، جس سے زندگی ممکن ہوئی۔ ہر چیز فطری اصولوں کے تحت چلتی ہے، جو خدا کی مرضی کے مطابق ہیں   

  

جین مت

جین مت مزہب کے نظریہ ہے کہ کائنات ہمیشہ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا، کسی خدا نے تخلیق نہیں کی۔ جاندار اور انسان روح اور مادہ کے امتزاج سے بنے ہیں، اور ان کی موجودگی کرم کے اصول پر مبنی ہے۔ روح ازلی ہے اور تناسخ کے ذریعے مختلف جسموں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ تخلیق خودکار اور ابدی عمل ہے، جسے کسی مافوق الفطرت ہستی نے نہیں بنایا۔


 زرتشت مت

زرتشت مت مزہب کے مطابق دنیا کو اہوارہ مزدا نے12000 سال کے مدت میں 6 مرحلوں میں تخلیق کیا - سب سے پہلے روشنی اور آسمان کو تخلیق کیا - دوسرے مرحلے میں مقدس پانی تخلیق کیا گیا جو کہ دنیا کے زندگی کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے- تیسرے مرحلے میں زمین کو تخلیق کیا - چوتھی مرحلے میں زمین پر پودے اگایا گیا - پانچویں مرحلے میں جانوروں کو زمین کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے تخلیق کیا گیا جبکہ ان میں سب سے پہلے بیل کو بنایا گیا جو کہ زرتشت مت مزہب میں مقدس سمجھا جاتا ہے تمام جانوروں اور جانداروں کو اہوارہ مزدہ کے حکم سے تخلیق ہوا ہیں - آخر میں انسان کو تخلیق کیا گیا تاکہ وہ نیکی کی نمائندگی کریں اور بدی سے کے خلاف کام کریں - پہلا انسان گیومرت تھا جو اہوارہ مزدہ کے عمل سے تخلیق ہوا - گیومرت کی موت کے بعد اس کے بیج سے ایک پودا اگا جس سے انسانی نسل کا آغاز ہوا


 بہائی مت 

بہائی مت مزہب کا نظریہ ہے کہ کائنات اور انسان کی تخلیق خدا کے حکم سے ہوئی ہے، جو ماورائی اور غیرمادی عمل ہے - انسان کا جسم مٹی، پانی، اور دیگر مادی عناصر سے بنایا گیا، لیکن اس کی اصل روحانی جوہر ہے، جو خدا کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے۔ بہائی مت کے مطابق، انسان کی تخلیق کسی مخصوص وقت یا لمحے کی قید میں نہیں بلکہ یہ ایک ارتقائی اور روحانی عمل ہے۔ خدا نے انسان کو اپنی صفات کے اظہار اور روحانی ترقی کے لیے پیدا کیا، اور اس کا مقصد دنیا میں محبت، اتحاد، اور امن قائم کرنا ہے۔



   تمام مزاہب کے پیروکار کسی نہ کسی خدا کو مانتا ہیں جسمیں کچھ مزاہب ایک خدا کو مانتے ہیں جیسے اسلام، عیسائیت، یہودیت اور کچھ مزاہب کئ خداؤں کو مختلف ناموں سے مانتے ہیں جیسے ہندو مت، اور دوسرے قدیم مزاہب جس میں بت اور دوسرے چیزوں کو مختلف ناموں سے اپنا خدا مانا جاتا تھا جبکہ کچھ مزاہب قدرتی چیزیں جیسے سورج، ہوا، پودے وغیرہ کو اپنے خدا مانتے تھیں لیکن مختلف مزاہب نے دنیا کي تخلیق آور انسانی زندگی کی مختلف عقائد پیش کیا ہیں - جبکہ سب کا یہ ماننا ہیں کہ دنیا کی تخلیق اور اس دنیا پر زندگی کو انہوں کے خداؤں نے تخلیق کیا ہیں جن میں کچھ مزاہب کے ایک خدا نے سب کچھ تخلیق کیا ہے تو کچھ مزاہب کے کئی خداؤں نے مل کر دنیا اور دنیا پر زندگی کو تخلیق کیا ہیں جبکہ مزہبوں کے علاہ دنیا کے تخلیق پر مختلف قدیم روایات اور فلسفیوں کے نظریات اور فلسفے بھی بیان کئے گئے ہیں


 جیسے کہ قدیم روایات اور نظریات ہیں 

 

آسٹرلین ایبوریجنل عقائد دنیا کی تخلیق کا تصور "Dreamtime" کے ذریعے بیان کیا گیا ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ دنیا اور تمام جاندار روحانی قوتوں نے پیدا کیے۔ زمین، جانور، اور انسان سبھی ایک دوسرے سے جُڑے ہیں۔


 مایا تہذیب مایا عقیدہ کے مطابق دنیا کو دیوتاؤں نےکئی بار تخلیق کیا۔انسانی تخلیق مختلف مواد جیسے مٹی، لکڑی، اور مکئی (جو حتمی انسانوں کی بنیاد ہے) سے ہوئی۔


 ایزٹک تہذیب دنیا کو پانچ سورج کے دور میں تخلیق کیا گیا-موجودہ دنیا پانچویں سورج کے تحت ہے، جو دیوتاؤں کی قربانی سے وجود میں آئی۔


 نورسی دیومالائی دنیا یمیر (ایک دیو ہیکل) کے جسم سے بنی انسانوں کو دو درختوں (ایش اور ایلڈر) سے تخلیق کیا گیا۔


افریقی روایتی مذاہب مختلف قبائل میں دنیا اور انسانوں کی تخلیق دیوتاؤں، قدرتی عناصر، یا مقدس جانوروں سے منسوب کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، یوروبا قبیلے میں دیوتا اولودوماری نے دنیا اور انسانوں کو تخلیق کیا۔


 جبکہ فلسفیانہ نظریات ہیں


یونانی فلسفہ 

تھالیس کہتا ہے کہ دنیا پانی سے بنی۔

اناکساگورس کہتے ہے کہ کائنات ایک ابتدائی "بیج" سے بنی۔

افلاطون کہتے ہے کہ دنیا کامل خیالات کے زیرِ اثر تخلیق ہوئی۔

ارسطو کہتے ہے کہ دنیا ہمیشہ سے موجود ہے اور کوئی تخلیق کا آغاز نہیں۔


 چینی فلسفہ

یانگ اور ینگ: تخلیق دو مخالف قوتوں (یانگ: روشنی، ینگ: اندھیرا) کے توازن سے ہوئی۔


 سائنس سے متاثر فلسفے 

 میکانزم: کائنات ایک مشین کی طرح ہے، جو قدرتی قوانین کے تحت کام کرتی ہے۔خدا یا کسی دیوتا کی مداخلت کے بغیر، دنیا خود سے وجود میں آئی۔

 کاسمک انرجی تھیوریز: دنیا اور زندگی کائناتی توانائی کے مظاہر ہیں۔ انسان ایک عظیم توانائی کا حصہ ہیں جو کائنات کی تخلیق کا سبب بنی۔


 مابعدالطبیعاتی خیالات

پینتھیزم: خدا کائنات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور ہر چیز میں موجود ہے۔ دنیا اور خدا الگ نہیں بلکہ ایک ہیں۔

پینینتھیزم: دنیا خدا کی تخلیق ہے لیکن خدا دنیا سے بڑا ہے انسان اور کائنات خدا کی توسیع ہیں۔

ڈیئزم: خدا نے دنیا کو تخلیق کیا اور پھر اس میں مداخلت نہیں کی۔ قدرتی قوانین کے تحت چلتی ہے۔


جیسے کہ مختلف مزاہب نے مختلف عقائد اور مختلف قبائل نے مختلف روایات جبکہ مختلف فلسفیوں نے مختلف نظریات و فلسفے بیان کیا ہیں دنیا اور زندگی کی تخلیق کے حوالے سے جبکہ سائنس مشاہدات تجربات اور گہرے تحقیق کا نام ہے اسلئے اس حوالے سے کچھ سائنسدانوں نے سائنسی تحقیق  بھی پیش کیا ہیں 

(سائنسی تحقیق دوسرے صفحے پر دیکھیں) 


وسیم خان یوسفزئی 

Comments

Popular posts from this blog

محمود خان بابا کی سوانح حیات

تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر

وطن ریاست آزادی اور پاکستان