ریاست کے ریاست کا حکمران کیسے ہونا چاہیے؟


 

ریاست بننے کے بعد ریاست کا حکمران ایک جمہوری طریقے سے لوگوں کے اکثریت رائے سے بٹھانا چاہیے - جبکہ ایسا شخص حکمران بننے کا اہل ہے جس میں ریاست چلانے کا صلاحیت ہو جیسے ان میں انسانیت پسندی، عدل و انصاف،، خدمت کا جزبہ، نرم لہجہ، دوستانہ رویہ، قائدانہ صلاحیت، نرم دلی، احساس، سرگرم، سماجی شخص، آزاد مفکر،اخلاق، سمجھدار، اہل علم جیسے صفات موجود ہوں

 

کسی شخص کو ان کے زاتی مزہب و عقائد کے وجہ سے حکمران بننے سے محروم رکھنا انسانیت کے خلاف فعل ہے جبکہ ایسا شخص حکمران بننے کےلئے اہل نہیں ہے جس کو اپنے مزہب و عقائد انسانیت سے زیادہ عزیز ہو کیونکہ ایسا شخص حکمران بننے کے بعد اپنے ہم عقائد کے طرف زیادہ توجہ دے گا جبکہ دوسرے مزہبوں و عقائد کے لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھے گا - اسلئے حکمران چاہیے جس مزہب و عقائد کے ماننے والا ہو لیکن اس کے عقائد اس کے زات تک محدود ہوگا جبکہ ریاست کےلئے وہ صرف محض ایک انسان ہوگا - جو کہ انسانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پورے نظام کو چلانے والا ہوگا- جبکہ ایسا قوم پرست بھی حکمران بننے کا اہل نہیں ہے جو کہ اپنے قوم کو عالی سمجھے اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھے کیونکہ تمام انسان برابر ہیں چاہیے جس کا تعلق جس زات پات سے ہو ہو - قام قبیلے صرف پہچان کے لئے ہوتا ہیں جبکہ اسے کمتر اور عالی سمجھنا انسانوں کا احمقانہ فعل اور رویہ ہوتا ہے - اسلئے حکمران ہمیشہ انصاف دار اور مساوات کو ماننے والا ہوگا تاکہ وہ کسی بھی عقائد، اور قوم پرستی سے بالاتر انسانیت کے حق پرست ہو- جب حکمران بننے کے صفات موجود ہو تو اکثریت کے رائے سے حکمران کوئی بھی جنس بن سکتا ہے - چاہیے مرد، عورت ہو یا ٹرانس جینڈر، جبکہ عمر کے لحاظ سے صرف بالغ ہونا چاہیے - کیونکہ جب ایک شخص کو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے اور ان میں حکمران بننے کے صفات موجود ہو تو عمر کوئی معنی نہیں رکھتا چاہیے جو بھی ہو - جبکہ تعلیمی لحاظ سے گریجویٹ ہو جس نے سولہ سالہ تعلیم کیا ہو جبکہ عالی تعلیم یافتہ کو اہمیت دیا جائے - لیکن خیال یہ ہے کہ 40 سال میں انسان کا زہن پختہ ہوجاتا ہے اور وہ چالیس سال تک زندگی میں مختلف تجربات سے گزرتا ہیں زندگی کو دیکھ لیتا ہے لیکن اگر اس سے کم عمر میں بھی کوئی شخص میں حکمرانی کے صفات موجود ہو تو وہی اہل ہے حکمران بننے کا جبکہ اگر دو شخص ایک کم عمر اور ایک چالیس سال کا ہو اور دونوں اہل ہو حکمران بننے کا- تو بہتر چالیس سال والا ہی ہوگا - بہتر ہے کہ ایسے سوچ والا بندہ حکمران بن جائے جن کا مقصد موجودہ زندگی میں لوگوں کے مسائل کا حل نکالنا، ریاست کو اس قابل بنانا، اور لوگوں کو انصاف اور سہولیات فراہم کرنا ہو


وسیم خان یوسفزئی 

Comments

Popular posts from this blog

محمود خان بابا کی سوانح حیات

تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر

وطن ریاست آزادی اور پاکستان