ریاست کا تاریخی پس منظر اور دنیا کا پہلا ریاست

 


دنیا کا سب سے پہلے ریاست اور بادشاہت کے بارے میں مختلف مزاہب کا مختلف عقائد ہیں جیسے اسلام میں پوری زمین کو پہلا ریاست مانا جاتا ہے اور اس پر حضرت آدم علیہ السلام کو پہلا خلیفہ سمجھا جاتا ہے جبکہ ہندومت میں سویمبھومنو کو پہلا بادشاہ سمجھا جاتا ہے لیکن سائنسی تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً 8000 قبل مسیح زراعت شروع ہوئی- جیسے زرعی انقلاب کہا جاتا ہے اور اس دن سے انسانوں نے شکار اور خوراک جمع کرنے سے زراعت اور گاؤں کی بنیاد رکھنے کے طرف قدم بڑھایا - تاریخی اعتبار سے4500 قبل مسیح میں میسویوٹیمیا (موجودہ عراق) ایک مکمل تہزیب کے طور پر وجود میں آیا - جبکہ سمیرین تہذیب کے ایک حکمران "ایتانا" تقریباً 3500 قبل مسیح میں میسوٹیمیا(عراق) کے شہر کش کا بادشاہ تھا - جبکہ قدیم مصری ریاست کا شروعات بھی 3100 قبل مسیح میں ہوا پہلا فرعون یا بادشاہ مینس/نارمر نے مصر کو متحد کیا - اوس کے بعد مختلف فرعون مصر کے ریاست پر مختلف دوروں میں گزرے جیسے فرعون رمسیس دوم (1279-1213) قبل مسیح، فرعون توت عنخ امون جبکہ دوسرے قدیم تہزیب انڈس ویلی/وادی سندھ تہزیب (موجودہ پاکستان /انڈیا) 3300 قبل مسیح میں شروع ہوا - ہڑپہ اور موہنجوداڑو ان کے اہم شہر تھے جبکہ اس تہزیب یا ریاست کا خاتمہ 1900 قبل مسیح میں ہوا - چینی تہزیب شیاہ، شانگ، اور زوو 2100 قبل مسیح - جبکہ سب سے پہلے معروف قانونی تحریر کوڈ اف حمورابی 1754 قبل مسیح میں حمورابی جو بابلی سلطنت (میسوپوٹیمیا "موجودہ عراق") کے چھٹے بادشاہ تھے نے وضع کئے پھتر کے تختوں پر - جبکہ موجودہ سیاسی ممالک میں دنیا کا سب سے پہلا ملک سان مارینو (یورپی ملک) ہے جو کہ 3 ستمبر 301 عیسوی کو قائم ہوا - اس ملک کا بنیاد ایک عیسائی پھتر کار سائٹ مارینس نے رکھی تھی - جبکہ فرانس دوسرا ملک ہے جو کہ 843 عیسوی میں اس کا قیام ہوا 987 عیسوی میں بادشاہت کا آغاز ہوا جبکہ 1789ء میں فرانسیسی انقلاب کے بعد جمہوریت کا بنیاد رکھی 


موجودہ عراقہ پرانہ میسویوٹیمیا جہاں سے پہلے ریاست کا شروعات ہوا ہے


 اس تاریخی پس منظر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 8000 قبل مسیح کے بعد دنیا میں مختلف تہزیبوں اور ریاستوں نے پروان چھڑی ہیں - جنہوں نے اپنے اپنے اصول بنائیں جبکہ اصول روایات میں تبدیل ہوتے گئے اور روایات نے رفتہ رقتہ عقائد کا شکل اختیار کر کے مزاہب بنے ہیں جیسے قدیم مصری اور ایشیاء کے مزاہب - جبکہ اس اصول و روایات پر لوگ اپنے زندگی بسر کرتے تھے - موجودہ دور (اکیسویں صدی) میں دنیا کو ساتھ براعظموں میں تقسیم کیا گیا ہیں جن میں چھ براعظموں پر زندگی موجود ہیں اور ایک براعظم انٹارکٹکا پر سخت سردی کے وجہ سے کوئی مستقل آبادی یا ملک نہیں ہے - جبکہ باقی چھ براعظموں پر 195 ممالک موجود ہیں جو کہ 193 ممالک اقوام متحدہ کے رکن ہیں - جس میں براعظم افریقہ میں 54 ممالک، براعظم ایشیاء میں 48 ممالک، براعظم یورپ میں 44 ممالک، براعظم شمالی امریکہ میں 23 ممالک، براعظم آسٹریلیا (اوشیانا) 14 ممالک اور جنوبی امریکہ میں 12 ممالک موجود ہیں - جبکہ اس وقت ان میں سے 150 ممالک میں جمہوریت ہیں اور 13 ممالک میں بادشاہت ہیں جبکہ 32 ممالک میں مختلف نظام چل رہے ہیں جس میں مختلف حکومتی نظاموں میں آمرانہ حکومتیں، نظریاتی حکومتیں (مذہبی یا کمیونسٹ)، اور مخلوط حکومتیں شامل ہیں - یہ تمام ممالک مختلف اصولوں اور قوانین کے تحت چل رہا ہیں جبکہ نظریاتی حکومتیں مزہبی عقائد یا کسی دوسروں نظریوں کے تحت نظام چلا رہا ہیں 


وسیم خان یوسفزئی 


Comments

Popular posts from this blog

محمود خان بابا کی سوانح حیات

تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر

وطن ریاست آزادی اور پاکستان