رياست کے چند اصول جو اہمیت کے حامل ہیں


 

ریاست بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت پسند عدل و انصاف نظام کے تحت ان وطنوں و علاقوں کے لوگوں سے جمہوری طریقے سے رائے لیا جائے جبکہ ان علاقے کے لوگوں کو ریاستی نظام قائم کرنے کے لئے مکمل اختیار ہو- اگر اس علاقے و وطن میں طاقتور شر پسندوں کے اکثریت ہو جو کہ اس جبر کو جاری رکھنے کے لئے انسانیت پسند نظام کا عامی نہ ہو تو دوسرے ریاستوں و علاقوں کے انسانیت پسند قوتوں و لوگوں کا حق بنتا ہیں کہ ان علاقوں کے انسانیت پسندوں کے ساتھ مل کر شرپسندوں کے حق میں بغاوت کا اعلان کریں  اور انسانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آزادی کے تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے جدوجہد کریں - جبکہ کسی طاقتور قوتوں کا کسی خطے پر اپنے طاقت کے زور پر حملہ کرنا یا کسی علاقے کے وسائل کو ہڑپ کرنا جبکہ ان علاقوں کو اپنے ریاست میں طاقت کے زور پر شامل کرنا اور لوگوں کو اپنا ماتخت بنانا یا ان لوگوں کو زبردستی اپنے ریاست کے ماتحت لانا ایک سنگین جرم اور انسانیت کے خلاف اقدام ہے دنیا کے تمام انسان برابر ہیں اور تمام انسانوں کو اپنے زندگی جینے کا حق ہیں وہاں لوگوں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے مرضی سے کسی ریاست میں شمولیت ہونے یا ریاست بنانے کا اختیاری ہو بشرط یہ کہ وہاں کوئی شرپسند سوچ نہ ہو


کسی بھی انسان پر ایسے قوانین، اصول یا عقائد اور روایات زبردستی ماننا جن اصول قوانین کا اور عقائد کا موجودہ زندگی میں کوئی دخل نہ ہو بلکہ ان کا دارومدار موت کے بعد والے زندگی پر ہو ایک سنگین جرم اور انسانیت کے خلاف اقدام کا تصور ہے - جیسے کے بعض مزاہب کے عقائد اپنے خداؤ کے عبادت پر زور دیتا ہے یا مثال کے طور پر جیسے موسیقی سے منع فرماتے ہے ایسے مختلف قوانین پر زور دیا جاتا ہیں جن کا تعلق یا ان کا اثر موجودہ زندگی پر نہیں ہوتا بلکہ صرف اس وجہ سے زور دیا جاتا کہ اس سے خدا خوش ہوتا ہے یا یہ خدا کا حکم ہے مطلب یہ کہ عقائد انسان کے ذاتی عمل ہے اور یہ اس کا اور اس کے خدا کا معاملہ ہے ایسے مسائل پر کسی شخص یا ریاست کا حق نہیں بنتا کہ کسی انسان کو اس کے لئے مجبور کریں - یا جیسے قدیم پختون روایات سے چلتے آرہا تھا کہ بھائی سے قتل ہونے کے صورت میں بدلے میں بے گناہ بہن کو دیا جاتا جبکہ یہ محض انسانیت کی تذلیل اور انصاف سے ہٹ کر لوگوں کے بنائے ہوئے اصول تھے جو کہ بعد میں روایات کا شکل اختیار کر گیا اور بعد میں انہیں اس مسئلے کے ساتھ اہمیت دیا گیا تھا جو کہ آج تک بعض دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں اب بھی رائج ہے 


وسیم خان یوسفزئی


Comments

Popular posts from this blog

محمود خان بابا کی سوانح حیات

تاریخ دیر اقوام دیر و حکمرانان دیر

وطن ریاست آزادی اور پاکستان