بابڑہ جہاں چھ سو بے گناہ پختونوں کو بے دردی سے پر آمن احتجاج میں قتل کر دیا گیا تھا
![]() |
یہ 12 اگست 1948 کی بات ہے جب پاکستان بننے کے ایک سال ہی پورا نہیں ہوا تھا - پاکستان بننے سے پہلے پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ال انڈیا کانگریس سے خان عبدالجبار خان (ڈاکٹر خان) تھا جو کہ جمہوری طریقے سے وزیر اعلیٰ بنا تھا - جبکہ پاکستان بننے کے اٹھ یا نو دن بعد قائد اعظم نے پختونخوا کے اسمبلی کو تحلیل کیا تھا - اور اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کا سلسلہ قائداعظم نے شروع کیا تھا - جبکہ 23 اگست 1947 کو قائد اعظم نے عبدالقیوم خان کشمیری کو پختونخوا کا وزیر اعلیٰ نامزد کیا تھا - عبدالقیوم کشمیری 1942 میں آل انڈیا کانگریس کا ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تھا - اور اس وقت جب عبدالقیوم کانگریس کا رکن تھا اس نے ایک کتاب لکھا تھا جس میں باچا خان کے تعریفیں اور جناح کے مخالفت میں بہت کچھ لکھا تھا - لیکن عبدالقیوم کشمیری بعد میں مفادات کے خاطر مسلم لیگ میں شریک ہوئے تھے جبکہ قائداعظم نے عبدالقیوم کشمیری کو مسلم لیگ پختونخوا کا اہم رکنیت دیا تھا - جبکہ22 اگست 1947 کو اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد 23 اگست 1947 کو عبدالقیوم کشمیری کو پختونخوا کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا تھا - مسلم لیگ میں آنے اور وزیر اعلیٰ بننے کے بعد عبدالقیوم کشمیری نے اپنے لکھے ہوئے کتاب پر پابندی لگائی - یہ بھی تاریخ کے اوراق میں سے حیران کن ہے کہ ایک لکھاری خود اپنے کتاب پر پابندی لگا دیتا ہے
پاکستان بننے کے بعد خدایی خدمتگار تحریک کا بانی باچا خان پاکستانی پارلیمنٹ کا ممبر بن چکا تھا - جہاں پر جناح سے ملاقات کر کے اسے باچا خان مرکز مدعو کیا تھا قاید اعظم نے اس دعوت کو قبول کیا تھا - اور پختونخوا کے وزیر اعلیٰ عبدلقیوم کشمیری کو آنے سے آگاہ کیا تھا - جبکہ قیوم کشمیری کو قائد اعظم کا باچا خان مرکز آنا پسند نہیں تھا جسکی وجہ سے قیوم کشمیری نے الزام لگایا اور جناح کو آنے سے منع کیا کہ باچا خان نے آپ کے قتل کے منصوبہ بنایا ہے جس سے جناح کا یہ دورہ منسوخ ہوا - اس دور میں سندھ اور بنگال میں اپنے اپنے زبانوں کے لئے تحریکیں شروع کردیئے گئے تھیں جبکہ پختونخوا میں عبدالقیوم کشمیری نے پشتو زبان اور پختون قوم کے ساتھ اپنا بغض رکھتے ہوئے مکمّل طور پر پابندی لگایا تھا جس کی وجہ سے آج بھی بہت لوگ قیوم کشمیری کے سوچ کے ساتھ ہیں جو کہ پشتو زبان کا پڑھ لکھ نہیں جانتے اور پختونخوا میں نظام تعلیم اور دوسرے اداروں میں پشتو زبان کے مخالفت کرتے ہیں کیونکہ قیوم کشمیری کا مادری زبان اردو تھا اور تعلق کشمیر کے مغل خاندان سے تھا جبکہ چترال میں 16 جون 1901 کو پیدا ہوئے تھے
باچا خان پر دوسرا الزام لگایا گیا تھا کہ باچا خان نے فقیر ایپی کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کیا ہے جس پر باچاخان کو گرفتار کر کے چھ سالوں تک قید میں رکھا گیا تھا جبکہ یہ محض ایک الزام تھا جو کہ بعد میں چھ سالوں تک بھی کوئی ثابت نہ کرسکا - اور اسی دوران پہلے ہی دور میں خدائی خدمتگار تحریک کے کئی لیڈروں کو گرفتار کر رکھا تھا جبکہ خدائی خدمتگار تحریک کو غیر قانونی اور ملک دشمن ٹھہرا کر منسوخ کیا گیا تھا
جس کی وجہ سے باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان نےچارسدہ بابڑہ کے مقام پر 12 اگست 1947 میں اس بے گناہ سیاسی گرفتاریوں کے خلاف پر آمن احتاج ریکارڈ کر رہے تھے - جس سے ڈاکٹر خان کو گرفتار کر لیا گیا - اور اسی ہی دن عبدالقیوم کشمیری کے حکم پر باقی پر آمن احتجاج کرنے والو پر ریاست کے پولیس اور فوج نے مل کر پر آمن احتاج میں شرکت کرنے والے ضعیفوں، عورتوں اور ورکرز پر گولیوں کی بارش کردیں -جس سے بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہوا خون کا دریا بہایا گیا - کہتے ہے یہ دن قیامت سے کم نہیں تھا - اندھیرا ہی اندھیرا چھاں گیا تھا عبدالقیوم کشمیری کے ظالمانہ فوج کو ترس نہ آیا اور ایک ایک شہری پر سیدھا فائرنگ کر رہے تھیں ایک ایک کو بے دردی سے قتل کر رہے تھیں - اور خون کا یہ دریا بہتا گیا - اور اسی ہی دن ظالموں نے 600 بے گناہ انسانوں کو ایک ساتھ ایک ہی احتجاج میں قتل کردیا - اس ظلم کی داستان یہاں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ہسپتالوں کو بھی حکم دے چکے تھیں کہ کسی بھی ہسپتال میں زخمیوں کا علاج نہیں ہوگا کوئی بھی ہسپتال اس کے لئے تیار نہیں تھا کہ جس میں بے گناہ پر آمن احتاج کرنے والوں کا علاج ہوسکے - کہتے ہے اسی احتاج میں جو شہری زخمی ہوئے تھیں انہوں کے خاندانوں سے ایک ایک بلٹ کے قیمت اصول کرنے کا کہا گیا تھا کیونکہ قیوم کشمیری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمارے بلٹ ضائع کیا اور مریں نہیں
اسلئے بابڑہ کے اس ظلم و بربریت سے برے واقعے کو کربلا سے تشبیہ دیا جاتا ہے - بابڑا کو پختونوں کا کربلا کہلاتا ہے جسمیں قیوم کشمیری نے اور ان کے فوج نے یزید کا کردار ادا کیا تھا
اس کے بعد قیوم کشمیری خود تقریر کر رہے تھے- جسمیں کہہ رہے تھے - کہ انہوں میں باقیوں کو شکر ادا کرنا چاہیے جو کہ بچ گئے ہیں میرے فوج کے ساتھ بلٹ ختم ہوئے تھیں ورنہ اسمیں کوئی ایک بھی نہیں بچتا
قیوم کشمیری کہتے ہے اور دوبارہ خدائی خدمتگار تحریک پر الزام لگاتا ہے کہ یہ تحریک غداروں کا ہیں اور میں اس کو نہیں چھوڑوں گا
آرٹسٹ کے ہاتھ کا بنایا ہوا بابڑہ میدان کا تصویر
12 اگست آب ہمیں ان 600 بے گناہ شہیدوں کا یاد دلاتا ہیں جو کہ اپنے حقوق کے لئے پر آمن احتاج کر رہے تھیں لیکن ظالم حکمرانوں نے ایک نئے صرف ایک سال کے بنے ہوئے ریاست میں خون کا دریا بہایا تھا - بابڑہ کے واقعہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ جسطرح قیوم کے فوج نے ایک ایک بے گناہ انسانوں پر سیدھا فائرنگ کیا ہیں ایک ایک انسان کو زمین پر مار کر گرایا ہوگا - ایک ایک انسان کو تڑپ تڑپ کے مارا کئی کو زخمی کیا ہیں زمین کو خون سے سرخ کیا جبکہ ایک ساتھ سینکڑوں لاشیں پڑے ہو زمین پر خون سے الودہ کپڑوں میں اس واقعے کا تصور ہی انتہائی عبرت ناک ہے
وسیم خان یوسفزئی

Comments
Post a Comment